واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا غالب رائے (قوی گمان) کو یقین کے قائم مقام سمجھا جائے گا؟ غالب الرایٔ بمنزلۃ الیقین۔

فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: فقہ مشاہدات: 1

جواب

غالب الرایٔ بمنزلۃ الیقین۔ (1)
ترجمہ: کہ غالب رائے(بندے کا اپنا ظن) یقین کے قائم مقام ہے۔
صرف احکام وحی ہی ظن اور شک سے محفوظ ہیں۔ انسانی زندگی میں وہم اور ظن کثرت سے دخول کرتا ہے لیکن کسی بھی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہر طور لازم ہوتا ہے۔ جب تک ظن اور وہم سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوجاتا اس وقت تک ابتداء بھی ناممکن و محال ہے۔ اس لیے غلبۂ ظن پر اعتماد کرتے ہوئے ظن کلیہ سے خارج ہوا جاتا ہے۔ اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ انسان کی کوئی بھی بات یافعل ظن سے خالی نہیں جسے یقین کامل کا نصیب ہونا ہی غیر یقینی ہے تو اس کےلیے غلبہ ظن ہی معتبر ہے۔علامہ عینی نے فرمایا:
ان غلبۃ الظن دلیل الشرعی۔ (2)
ترجمہ: بے شک غلبہ ظن دلیل شرعی ہے۔
یعنی شرعی احکام و مسائل کا انحصار اس پر کیا جائے گا۔

حوالہ

1۔ شامی، ردالمحتار،کتاب الصلوۃ،یشترط العلم بدخول الوقت،ج:1،ص:29
2۔ محمود بن احمد بن موسی بن احمد بن الحسین المعروف ببدرالدین عینی الحنفی، تاریخ پیدائش:26رمضان762ھ، علوم تفسیر، علوم حدیث، علوم فقہ، علوم لغویہ اور تاریخ کے ماہر تھے اور ان میں آپ کی تصانیف مطبوعہ و غیرہ مطبوعہ ہیں۔آپ کی کتب کی تعداد کے متعلق علامہ سخاوی فرماتےہیں: کہ ہمارے شیخ(عینی) کے بعد کسی کی کتابیں اتنی زیادہ نہیں دیکھیں۔ آپ نے شعر بھی لکھے ہیں،آپ نے سیرت کو نظم میں لکھا ہے۔ تاریخ وفات:855ھ۔ منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک، کتاب الطھارۃ، فصل فی ازالۃ النجاسۃ، ص:80

اصل سوال

کیا غالب رائے (قوی گمان) کو یقین کے قائم مقام سمجھا جائے گا؟ غالب الرایٔ بمنزلۃ الیقین۔

مزید فتاویٰ جات

کیا تابع چیز کا حکم بھی اصل چیز کے حکم کے مطابق ہوگا؟ التابع تابع۔ کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔ کیا سبب کے بار بار پیدا ہونے سے اس کا حکم بھی بار بار لازم ہوگا؟ ان تکرار السبب یدل علی... کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔ کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔