واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا شرعی عذر کے بغیر مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کرنا احناف کے نزدیک درست ہے؟

جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: جنازہ مشاہدات: 23

جواب

جنازہ کےلیے سنت یہ ہے کہ مسجد سے الگ مقام پر ادائیگی کی جائے۔ اور اول دور سے اسی پر امت کا اتفاق ہے۔ مگر اب بعض مقامات پر مسجد میں جنازہ پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے کہ محراب والی دیوار سے باہر یعنی مسجد کے سامنے، مگر مسجد سے باہر، ایک کمرہ بنادیا جاتا ہے اس میں میت رکھ دیتے ہیں اور لوگ مسجد میں کھڑے ہوتے ہیں۔ بعض جگہوں پر تو بوجہ مجبوری کہ جگہ کی قلت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں مگر بعض مقامات ایسے بھی ہیں کہ مسجد کے سامنے یا دائیں بائیں گراؤنڈ موجود ہیں مگر پھر بھی جنازہ کا اہتمام مسجد میں کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جس کی بنیاد شاید مسجد نبویﷺ کو بنایا جاتا ہے کہ وہاں بھی مسجد میں ہی جنازہ پڑھا جاتا ہے۔ بلکہ وہاں تو میت والی محراب بھی مسجد میں ہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
ان النبیﷺ صف بھم بالمصلی، فکبر علیہ اربعا۔ (1)
ترجمہ: نبی کریمﷺ نے(جنازہ کےلیے) ان کی صفیں مصلی(مسجد سے الگ جنازگاہ) میں بنوائیں، اور آپﷺ نے جنازہ میں چار تکبیریں کہیں۔
یہ واقعہ نجاشی کی نماز جنازہ کا ہے کہ جس کی میت بھی مدینہ میں نہ تھی بلکہ حبشہ میں تھی، یعنی اس کےلیے صرف نماز ہی پڑھنا تھا مسجد میں میت کو داخل بھی نہ کرنا تھا۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
من صلی علی جنازۃ فی مسجد فلا شیٔ لہ۔ (2)
ترجمہ: جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی تو اس کےلیے کچھ اجر نہیں۔
ان احادیث کی بناء پر فقہاء احناف کا مذہب یہ ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ اور مسجد نبویﷺ میں اس وقت پڑھی جاتی ہے تو وہ احکام شرعیہ کےلیے اولاً تو حجت نہیں، اور وہاں عذر ہے کہ ہر نماز کے وقت جنازوں کی کثرت ہوتی ہے جنہیں ہربار جنازگاہ میں لے جانا اور تمام لوگوں کا جانا ایک مشکل امر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ وہ حنبلی یا شافعی مذھب کے مقلد ہیں جن سے حنفی دلیل نہیں پکڑ سکتا۔ جبکہ احناف کا موقف امام طحاوی بیان فرماتے ہیں:
فکرھوا الصلوۃ علی الجنازۃ فی المساجد۔ (3)
ترجمہ: (احناف نے) مسجد میں نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
جب یہ واضح ہوگیا توجان لو کہ مکروہ کا اہتمام کرنے سے بچنا لازم ہے۔ اگرچہ اسے حرام یا ناجائز نہیں کہا گیا لیکن مکروہ بھی ممنوعات کی ہی فہرست میں شامل ہے۔ جب مکروہ ممنوعات میں شامل ہے اسے کم درجہ کا منع سمجھ کر وہ عمل کرنا کبھی بھی قابل مذمت ہے۔ جب رسول اللہﷺ میت نہ ہونے کی صورت میں بھی مسجد سے باہر جانے کا اہتمام کرتے ہیں تو ہمارے لیے اسی سنت پر عمل کرنا ہی بہتر ہے۔

حوالہ

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجنائز، باب الصلوۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد، رقم:1328
2۔ ابوداود،السنن، کتاب الجنائز، باب الصلوۃ علی الجنازۃ فی المسجد، رقم:3191
طحاوی، شرح معانی الآثار، کتاب الجنائز، باب الصلوۃ علی الجنازۃ فی المساجد، رقم: 2750
3۔ طحاوی، شرح معانی الآثار، کتاب الجنائز، باب الصلوۃ علی الجنازۃ فی المساجد، ج: 1،ص:286

اصل سوال

کیا شرعی عذر کے بغیر مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کرنا احناف کے نزدیک درست ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟ کیا میت کو غسل دینے والے شخص پر خود غسل کرنا واجب ہے؟ کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟ کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟ کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟