واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟

جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: جنازہ مشاہدات: 63

جواب

لوگوں کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ حاملہ کو میت والے گھر میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ کہ حاملہ عورت کے چلے جانے سے بچے کے مرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
یہ تصور سراسر جاہلانہ ہے اس میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔ کیونکہ موت اللہ کے قبضہ میں ہے۔ اور اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کی موت کہاں پر واقع ہوگی۔
یہ بات ہوئی جہلاء کی، بعض علماء نے اس کی صحت پر فتویٰ صادر فرمایا ہےکہ عورت جب موت والے گھر جاتی ہے تو غم اور پریشانی بچے پر اثر انداز ہوتے ہیں جو کہ بچے کی موت کا باعث بنتے ہیں۔ یہ فتویٰ بھی جاہلانہ ہی ہے کیونکہ موت کا غم تو اپنے گھر بیٹھے بھی ہوگا، اور صرف یہی نہیں بلکہ غم تو اور بھی بے شمار ہیں۔
عوام جو موت والے گھرکو بچے کی موت کا سبب بناتے ہیں، وہ غم کو نہیں بلکہ خود اس میت کو موت کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس لیے اپنی طرف سے علتیں نکال کر جاہلانہ تصور کی بناء پر فتویٰ صادر کرنا بھی جہالت سے کم نہیں۔

اصل سوال

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا میت کو غسل دینے والے شخص پر خود غسل کرنا واجب ہے؟ کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟ کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟ کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟ کیا DNA ٹیسٹ کے ذریعے میت کی شناخت کرنا شرعاً جائز اور معتبر ہے؟