واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا DNA ٹیسٹ کے ذریعے میت کی شناخت کرنا شرعاً جائز اور معتبر ہے؟

جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: جنازہ مشاہدات: 37

جواب

جلنے، پھٹنے یا کسی اور خرابی کے باعث میت کی پہچان نہ ہورہی ہو تو اس میت کی پہچان کرانے کےلیے DNAٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ اور اس ٹیسٹ کی رپورٹ پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ کیا شرعی طور پر بھی DNA ٹیسٹ قابل ہوگا کہ نہیں؟ یہ بنیادی سوال ہے کیونکہ ٹیسٹ کے ذریعے پہچان کراکے اس کے ولی کا تعین ہوتا ہے۔ اس کی وراثت کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ اسے مردہ تصور کرکے اس کی اولاد کو یتیم تصور کیا جائے گا اور پھر ان کےلیے زکوۃ وصدقات کے اجراء کے احکام اس سے تعلق رکھتے ہیں۔ تصور کیا گیا مردہ اگر مرد ہے تو اس کی بیوی کےلیے عدت ہوگی اور عدت کے بعد دوسرا نکاح بھی کرسکتی ہے۔ ایسے ہی مرد کو اس عورت کی بہن سے نکاح کرنے کی اجازت مل جائے گی یا پہلے چار تھیں اب ایک کی کمی کے بعد اسے مزید ایک نکاح کی اجازت کا معاملہ اس رپورٹ سے تعلق رکھتا ہے۔اور ایسے کئی دیگر معاملات ہوسکتے ہیں۔
یہ تمام اہم معاملات اس ٹیسٹ سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اس ٹیسٹ پر اعتماد کرنے یا نہ کرنے کے بارے شریعت کا موقف کیا ہے؟ اس سوال کا جواب مندرجہ ذیل ہے۔
اس طرح کسی میت کی پہچان کےلیے کوئی قرآن وسنت سے خاص طریقہ مقرر تو نہیں کیا گیا لیکن ایک حدیث مبارکہ سے راہ ضرور ملتی ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے ماموں حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے بیان فرماتے ہیں: جنگ احد میں ہم نے انہیں شہید پایا اور ان کے جسم پر تلواروں، نیزوں اور تیروں کے اسی سے زائد زخم تھے۔ اور کفار نے ان کا مثلہ کردیا تھا۔ ہم میں سے کوئی بھی ان کو پہچان نہیں پارہا تھا سوائے ان کی بہن کے، کہ اس نے ان کی انگلی سے پہچان کرلی۔ (1)
اس حدیث مبارکہ سے واضح یہ ہوا کہ میت کی پہچان اس کی کسی بھی علامت سے درست ہے۔ اور اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ میت کی پہچان کسی اصول کے تابع نہیں بلکہ کسی بھی قرینہ سے پہچان کی جاسکتی ہے۔ ایسے ہی DNAٹیسٹ میں بھی ایک قرینہ حاصل کیا جاتا ہے جو اس کے خاندان کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ یا نادرا میں موجود اس کے ریکارڈ سے مطابقت کے ساتھ ظن سے بڑھ کر یقینی کیفیت حاصل ہوتی ہے جو کہ عام تمام قرائن سے مضبوط ذریعہ ہے۔ اس طریقہ سے جب کوئی اور قرینہ اس ٹیسٹ کی رپورٹ کے خلاف نہ ہوتو اس پر ہی اعتماد کیا جائے گا۔

حوالہ

1 ۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب قول اللہ عزوجل: من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ، ج: 2،ص: 307،رقم:2805

اصل سوال

کیا DNA ٹیسٹ کے ذریعے میت کی شناخت کرنا شرعاً جائز اور معتبر ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟ کیا میت کو غسل دینے والے شخص پر خود غسل کرنا واجب ہے؟ کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟ کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟ کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟