لوگوں میں یہ بھی مشہور ہے کہ خاوند اپنی زوجہ کی میت والی چارپائی کو کندھا نہیں دے سکتا یعنی اٹھا کر چلتے وقت اسے کندھا کر اٹھا نہیں دے سکتا۔ یہ بھی مذکورہ مسئلہ کی طرح بالکل بےاصل اور بے بنیاد ہے۔ میت کے جتنے بھی مسائل کتب فقہ میں بیان کیے گئے ہیں ان میں اس مسئلہ کے متعلق کوئی بھی ذکر نہیں ملتا ہے۔
ہاں اتنا ضرور ہے کہ میت بیوی کو اس کا خاوند غسل نہیں سکتا کیونکہ عورت مرتے ہیں خاوند کے نکاح سے خارج ہوجاتی ہے۔ جب عورت نکاح میں نہ ہو تو اس کو چھونا اور جسم دیکھنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا جب یہ عورت موت کے ساتھ نکاح سے خارج ہوگئی تو خاوند کےلیے اس کو چھونا اور جسم کو دیکھنا جائز نہیں ہے۔ جبکہ خاوند فوت ہوجائے تو عورت اسے غسل دے سکتی ہے کیونکہ عورت ابھی عدت کے دنوں میں ہے گویا وہ اس طرح خاوند کے نکاح سے خارج نہیں ہوئی ہے۔اور قبر میں خاوند کا اتارنا بھی جائز ہے کیونکہ عورت کفن میں ملفوف ہے اور یہاں مجبوری بھی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ اس عورت کےلیے اس کی زندگی میں بھی غیر محرم اور اجنبی تھے ان کے کندھا دینے کو جائز تصور کیا جاتا ہے اور جو شخص اس کا خاوند رہا اس کے کندھا دینے کو نا جائز تصور کیا جاتا ہے۔
فتویٰ
کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟
جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
اصل سوال
کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟