جب کسی گھر میں سے کسی کو موت آجائے تو لوگ اس کے گھر جاتے ہیں، اور اس کے ورثاء سے تعزیت کرتے ہیں۔ یہ ایک مسنون اور مستحسن عمل ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
بینما نحن نسیر مع رسول اللہﷺ اذا بصر بامرأۃ لاتطن انہ عرفہا فلما توسط الطریق وقف حتی انتہت الیہ فاذا فاطمۃ بنت رسول اللہﷺ قال لھا ما اخرجک من بیتک یافاطمۃ قالت اتیت اھل ھذا المیت فترحمت الیہم وعزیتھم بمیتہم قال لعلک بلغت معھم الکدیٰ قالت معاذاللہ ان اکون بلغتھا وقد سمعتک تذکر فی ذالک ماتذکر فقال لھالو بلغت معھم مارایت الجنۃ حتی یراھا جد ابیک۔ (1)
ترجمہ: ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ جارہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ایک عورت کو دیکھا اس عورت نے یہ خیال نہ کیا کہ آپﷺ نے اسے پہچان لیا ہے۔ جب وہ عورت راستے کے درمیان تک پہنچی تو رسول اللہﷺ رک گئے۔ یہاں تک کہ وہ عورت رسول اللہﷺ تک آن پہنچی، (معلوم ہوا) وہ فاطمہ بنت رسول اللہﷺ تھیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ! آپ کس کام کی غرض سے گھر سے آئیں؟ انہوں نے عرض کی یہ میت والوں کے گھر گئی تھی، ان کے لیے رحمت کی دعا کرنے اور میت کی تعزیت کرنے کےلیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: شاید آپ قبرستان تک بھی ان کے ساتھ گئی ہوں گی؟ انہوں نے عرض کی: معاذ اللہ! میں وہاں کیسے جا سکتی تھی، جبکہ آپ سے وہ سن چکی ہوں جو آپ فرمایا کرتے ہیں(یعنی عورتوں کا قبرستان میں جانے سے منع کرنے کی طرف اشارہ ہوگا واللہ اعلم بالصواب)۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر آپ چلی جاتیں تو جنت کو اس وقت تک نہ دیکھ سکتیں جب تک کہ آپ کے والدﷺ کے دادا نہ دیکھ لیں۔
اس حدیث میں سیدہ نساء العالمین علیہا السلام کے میت والوں کے گھر جاکر تعزیت فرمانے کا ذکر ہے۔ مگر رسول اللہﷺ نے اس کو برا نہیں جانا بلکہ اس بات پر خاموشی اختیار فرمائی اور دوسری بات کی طرف التفات فرمایا۔ لہٰذا یہ حدیث تقریری موقوف ہے۔جس سے تعزیت کا جواز بالکل ثابت ہے۔مگر امام نسائی نے ابوعبدالرحمن ربیعہ کے حوالہ سے کہا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔مگر امام نسائی کا اس حدیث کو ذکر کرنا ان کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ ابوعبدالرحمن ربیعہ کا موقف ذکر کیا مگر خودخاموشی اختیار فرمائی نہ صرف یہی بلکہ حدیث بھی درج کی ہے۔
فتویٰ
کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟
جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ نسائی، السنن، کتاب الجنائز، باب النعی، ج: 1،ص:265
اصل سوال
کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟