کسی کی موت اور اس کی نماز جنازہ کا مساجد میں اعلان کرنا جائز عمل ہے۔ حضرت خارجہ بن زید بن ثابت روایت کرتے ہیں:
خرجنا مع النبیﷺ فلما ورد البقیع فاذا ھو قبر جدید فسأل عنہ فقالوا فلانۃ قال فعرفہاوقال الا اٰذنتمونی بھا قالوا کنت قائلا صائما فکرہنا ان نوذیک قال فلا تفعلوا لا عرفن ما مات منکم میت ما کنت بین اظہرکم الا اٰذنتمونی بہ فان صلوتی علیہ لہ رحمۃ ثم اتی القبر فصففنا خلفہ فکبر علیہ اربعا۔ (1)
ترجمہ: ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے جنت البقیع میں پہنچے ایک نئی قبر کو رسول اللہﷺ نے دیکھا تو اس کے متعلق پوچھا۔ لوگوں نے بتایا کہ فلاں عورت کی قبر ہے حضور نبی مکرمﷺ نے اسے پہچان لیا۔ اور فرمایا: تم نے مجھے کیوں نہ اس کی موت کی خبر دی لوگوں نے عرض کی: آپ روزے کے ساتھ تھے اور قیلولہ فرما رہے تھے ہم نے آپ کو تکلیف نہ دی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو بھی مرے جب تک میں تمہارے درمیان ہوں مجھے اس کی خبر دیا کرو۔ کہ میرا اس میت پر نماز پڑھنا اسکےلیے رحمت ہے۔ پھر آپ اس عورت کی قبر پر آئے اور ہم سب نے صف بنائی آپ نے اس پر چار تکبیر کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی۔
موت اور جنازہ کا اعلان بھی لوگوں کو میت کے لیے نمازودعا کی غرض سے جمع کرنے کےلیے ہی ہوتا ہے۔ اگرچہ رسولِ مکرمﷺ کے دور میں مسجد میں باضابطہ اس طریقہ سے اعلان نہیں ہوا کرتے تھے۔ مگر آپﷺ کے مذکورہ بالا فرمان سے یہ ثابت ہوگیا کہ میت پر نماز ودعا کےلیے لوگوں کو اطلاع مستحسن اور مسنون عمل ہے۔ اور یہ اطلاع مسجد میں کرنے سے رسول اللہﷺ نے منع نہیں فرمایا۔
فتویٰ
کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟
جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1۔ ابن ماجۃ، السنن، کتاب الجنائز، باب فی الصلوۃ علی القبر، ج: 1،ص:221
اصل سوال
کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟