واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا بوٹ پر مسح کرنا جائز ہے؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 1

سوال

کیا بوٹ پر مسح کرنا جائز ہے؟

جواب

منصوص علیہ احکام(جن کا حکم قرآن وحدیث میں آگیا) سے قیاس کرتے ہوئے غیر منصوص علیہ مسائل کا حل تلاش کیاجاتا ہے۔ اس کےلیے ضروری ہے کہ منصوص علیہ کے اندر وہ شرائط پائی جائیں جن کے ہوتے ہوئے قیاس کرنا درست ہے۔ ان شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ وہ حکم متعدی ہو اور اپنے مورد پر بند نہ ہو(جس جگہ حکم لگایا گیا اسی سے مخصوص ہو)۔ موزوں پر مسح کرنامتعدی نہیں بلکہ اپنے مورد پر بند ہے۔صاحب فتح القدیر کہتے ہیں:
لا شک ان المسح علی الخف علی خلاف القیاس، فلا یصلح الحاق غیرہ بہ الا اذا کان بطریق الدلالۃ وھو ان یکون فی معناہ۔۔ (1)
ترجمہ: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موزے پر مسح کرنا خلاف قیاس ہے۔ جو کہ کسی دوسری طرف ملحق ہونے (متعدی ہونے)کی صلاحیت نہیں رکھتا(کہ اس پر کوئی اور قیاس کرنا جائز نہیں ہے)، سوائے اس صورت کے کہ وہ مدلول بن جائے کہ وہ موزے کے معنی میں ہو جائے (مسح موزے پر ہی جائز ہے لہٰذا جوموزے کے معنی میں ہوجائے گا تو اس پر مسح موزہ ہونے کی وجہ سے کیا جائے گا)۔
البدائع الصنائع میں علامہ کاسانی فرماتے ہیں:
فلان حکم المسح استقر علی الخف، فلا یتحول الی غیرہ۔ (2)
ترجمہ: اس لیے کہ موزے پر مسح کرنے کا حکم اسی پر ہی ٹھہر چکا ہے(یعنی آگے متعدی ہونے والا نہیں ہے) اس لیے کسی اور کی طرف نہیں بڑھے گا۔
یہ عبارات سامنے آگئیں اور حضور نبی کریمﷺ سے بھی کوئی ایسی روایت موجود نہیں کہ جس میں آپﷺ کے بوٹ پر مسح کرنے کی مشروعیت ثابت کی جائے۔لہٰذا مسح کرنا صرف موزوں سے خاص ہے۔
حوالہ جات:
1۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، ج: 1 ،ص:158
2۔ الکاسانی، البدائع ، کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، ج: 1 ،ص:49

مزید فتاویٰ جات

کیا زِپ والے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟ کیا کریم، سرخی اور پاؤڈر لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟ کیا معدہ تک نلکی (ٹیوب) پہنچانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا ٹرین یا جہاز میں پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا جا سکتا ہے، اگر ذریعۂ تیمم میسر... کیا ناخن پالش لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟