کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟
حَدَث فقہِ اسلامی کی اصطلاح میں ایسی شرعی ناپاکی کو کہتے ہیں جو انسان پر طاری ہو جائے اور جس کی وجہ سے نماز، طواف یا دیگر بعض عبادات ادا کرنا جائز نہیں رہتا، یہاں تک کہ وضو یا غسل کر لیا جائے۔
فتویٰ
کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی کی اصطلاح میں ایسی شرعی ناپاکی کو کہتے ہیں جو انسان پر طاری ہو جائے اور جس کی وجہ سے نماز، طواف یا دیگر بعض عبادات ادا کرنا جائز نہیں رہتا، یہاں تک کہ وضو یا غسل کر
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
جواب
تمام مصنوعی اعضاء (دانتوں، بالوں اور دیگر) کی دو صورتیں ہیں کہ وہ اعضاء مستقل ہوں گےیا عارضی پہلی صورت میں تو اصلی اعضاء کے حکم میں ہو جائیں گے اس صورت میں ان اعضاء کو کسی وقت اتاردینے کی صورت میں حدث لاحق نہیں ہوگا۔ جس طرح سے جسم سے گوشت کا لوتھڑا بغیر خون بہنےکے گر جائے تو حدث لاحق نہیں ہوتا۔ اسی طرح سے جب تک ان کو اتارنے کی وجہ سے خون خارج نہ ہو حدث لاحق نہیں ہوگا کیونکہ اب وہ اصلی کے حکم میں ہوچکے ہیں تو احکام بھی اصلی اعضاء والے ہی جاری ہوں گے۔صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
او سقط اللحم منہ لاینقض۔ (1)
ترجمہ: یا اگر گوشت زخم سے گرگیا تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
لیکن اگر ان اعضاء کو اب مستقل طور پر اتار دینا چاہتا ہو اور دوبارہ نہ لگانے ہوں تو پھر حدث لاحق ہو جائے گا اس صورت میں جب ان کے اوپر ہی طہارت حاصل کی گئی ہو کیونکہ اس مسئلہ کو کسی منصوص علیہ پر قیاس کیا جانا ہے۔ مسح میں منصوص علیہ دو چیزیں ہیں کہ جن کے اوپر مسح کرنے کی اجازت ہے موزے اور پٹی۔ ان مصنوعی اعضاء کو موزوں پر قیاس نہیں کیا جائے گاکیونکہ ان پر مسح کی مدت مخصوص ہے اور وہ غیر مقیس علیہ ہیں۔ جبکہ پٹی اور مصنوعی اعضاء میں مدت مقرر نہیں۔ موزوں پر مسح معذوری کی بنا پر نہیں ہے جبکہ پٹی اور مصنوعی اعضاء میں معذوری کی بنا پر ہے۔موزوں کو جب طہارت کے بعد پہنا گیا ہو تب مسح جائز ہے جبکہ پٹی اور مصنوعی اعضاء میں طہارت کے بغیر بھی مسح جائز ہے۔ لہٰذا مصنوعی اعضاء کو پٹی کے حکم میں کیا جائے گا۔ اور پٹی کو جب عذر کے ختم ہوجانے پر اتار دیا جائے تو حدث لاحق ہو جاتا ہے۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
وان سقطت عن برء بطل لزوال العذر۔(2)
ترجمہ: اور اگر عذر کے ختم ہوجانے کی بنا پر پٹی گر جائے تو وضو باطل ہو جائے گا۔
جب کوئی شخص مصنوعی اعضاء کو مستقل طور پر اتار دے گا تو گویا اس نے عذر کو ختم کردیا لہٰذا جس طرح پٹی کو اتار دینے پر حدث لاحق ہو جائے گا اسی طرح سے مصنوعی اعضاء کو اتار دینے پر بھی حدث لاحق ہو جائے گا۔
دوسری صورت میں یعنی جب عارضی ہوں، طہارت کےلئے ان کو اتارنا ہی لازمی ہے جب طہارت ان کو اتار کر ہی حاصل کی گئی تو بعد طہارت ان کو اتارنے یا نہ اتارنے سے کوئی فرق نہیں ہوگا جیسے انگوٹھی وغیرہ کو اتارنے سے حدث لاحق نہیں ہوگا۔ کہ انگوٹھی کے نیچے پانی پہنچانا لازمی ہے جس چیز کے نیچے تک پانی پہنچ چکا ہو اس کے اترنے سے حدث لاحق نہیں ہوگا۔
حوالہ جات:
1۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطہارۃ ، نواقض الوضو ، الجزء الاول ، ص : 28
2۔ المرغینانی ، ھدایۃ ، کتاب الطہارۃ ، باب المسح علی الخفین ، ج:1، ص : 60
او سقط اللحم منہ لاینقض۔ (1)
ترجمہ: یا اگر گوشت زخم سے گرگیا تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
لیکن اگر ان اعضاء کو اب مستقل طور پر اتار دینا چاہتا ہو اور دوبارہ نہ لگانے ہوں تو پھر حدث لاحق ہو جائے گا اس صورت میں جب ان کے اوپر ہی طہارت حاصل کی گئی ہو کیونکہ اس مسئلہ کو کسی منصوص علیہ پر قیاس کیا جانا ہے۔ مسح میں منصوص علیہ دو چیزیں ہیں کہ جن کے اوپر مسح کرنے کی اجازت ہے موزے اور پٹی۔ ان مصنوعی اعضاء کو موزوں پر قیاس نہیں کیا جائے گاکیونکہ ان پر مسح کی مدت مخصوص ہے اور وہ غیر مقیس علیہ ہیں۔ جبکہ پٹی اور مصنوعی اعضاء میں مدت مقرر نہیں۔ موزوں پر مسح معذوری کی بنا پر نہیں ہے جبکہ پٹی اور مصنوعی اعضاء میں معذوری کی بنا پر ہے۔موزوں کو جب طہارت کے بعد پہنا گیا ہو تب مسح جائز ہے جبکہ پٹی اور مصنوعی اعضاء میں طہارت کے بغیر بھی مسح جائز ہے۔ لہٰذا مصنوعی اعضاء کو پٹی کے حکم میں کیا جائے گا۔ اور پٹی کو جب عذر کے ختم ہوجانے پر اتار دیا جائے تو حدث لاحق ہو جاتا ہے۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
وان سقطت عن برء بطل لزوال العذر۔(2)
ترجمہ: اور اگر عذر کے ختم ہوجانے کی بنا پر پٹی گر جائے تو وضو باطل ہو جائے گا۔
جب کوئی شخص مصنوعی اعضاء کو مستقل طور پر اتار دے گا تو گویا اس نے عذر کو ختم کردیا لہٰذا جس طرح پٹی کو اتار دینے پر حدث لاحق ہو جائے گا اسی طرح سے مصنوعی اعضاء کو اتار دینے پر بھی حدث لاحق ہو جائے گا۔
دوسری صورت میں یعنی جب عارضی ہوں، طہارت کےلئے ان کو اتارنا ہی لازمی ہے جب طہارت ان کو اتار کر ہی حاصل کی گئی تو بعد طہارت ان کو اتارنے یا نہ اتارنے سے کوئی فرق نہیں ہوگا جیسے انگوٹھی وغیرہ کو اتارنے سے حدث لاحق نہیں ہوگا۔ کہ انگوٹھی کے نیچے پانی پہنچانا لازمی ہے جس چیز کے نیچے تک پانی پہنچ چکا ہو اس کے اترنے سے حدث لاحق نہیں ہوگا۔
حوالہ جات:
1۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطہارۃ ، نواقض الوضو ، الجزء الاول ، ص : 28
2۔ المرغینانی ، ھدایۃ ، کتاب الطہارۃ ، باب المسح علی الخفین ، ج:1، ص : 60