فتویٰ
فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟
جواب
نماز کےلیے طہارت حاصل کرنا امر قطعی ہے اور اس طہارت کے فرائض بھی نص قطعی سے ثابت ہیں۔ جن میں کسی طرح کی بھی کوئی بھی اجازت یا نرمی نہیں دے سکتا۔ مگر موزوں پر مسح کرنا صرف اس لیے جائز ہے کیونکہ وہ خود شارع علیہ السلام نے مشروع کردیا ہے۔ اور یہ کیونکہ خلاف قیاس ہے اس لیے اس سے آگے قیاس نہیں کیاجاسکتا۔ تو جب بوٹ پر مسح جائز نہیں پھر کوئی صورت ایسی نہیں جس میں اجازت مل سکے کہ فوجی یا پولیس مین ڈیوٹی پر ہیں تو وہ اپنے بوٹ پر ہی مسح کرلیں۔
اور ڈیوٹی پر ہونا کوئی ایسی مجبوری نہیں کہ بوٹ کو اتارا نہ جاسکتا ہو، یا مشکل و ناممکن ہو۔ کیونکہ پانچ وقت کی نماز کےلیے بوٹ کا اتارنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اور اگر مشکل ہوبھی تو یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ موزوں پر مسح کرنا کسی مشکل یا ناممکن ہونے کہ بناء پر نہیں ہے کہ اس سے آگے قیاس کیا جائے اور حکم متعدی ہوسکے۔ لہذا بوٹ پر مسح جائزنہیں، چاہے وہ کوئی ڈیوٹی پر پہن کر موجود ہو یا عام حالات میں ہو۔
اور ڈیوٹی پر ہونا کوئی ایسی مجبوری نہیں کہ بوٹ کو اتارا نہ جاسکتا ہو، یا مشکل و ناممکن ہو۔ کیونکہ پانچ وقت کی نماز کےلیے بوٹ کا اتارنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اور اگر مشکل ہوبھی تو یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ موزوں پر مسح کرنا کسی مشکل یا ناممکن ہونے کہ بناء پر نہیں ہے کہ اس سے آگے قیاس کیا جائے اور حکم متعدی ہوسکے۔ لہذا بوٹ پر مسح جائزنہیں، چاہے وہ کوئی ڈیوٹی پر پہن کر موجود ہو یا عام حالات میں ہو۔