فتویٰ
کیا زِپ والے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا زِپ والے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟
جواب
موزے پر مسح کے جواز کےلیے چند شرائط ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ موزہ ٹخنوں کو ڈھانپتا ہو اور دوسری یہ کہ موزے میں پھٹن پاؤں کی چھوٹی تین انگلیوں سے زیادہ نہ ہو۔زِپ والے موزے میں کوئی عدم جواز کی صورت بظاہر تو نہیں ہوتی۔ مگر اس صورت میں احتمال ہوتا ہے کہ زِپ ایک پھٹن کی مثل ہے اور اگر اسے کھول دیں تو اس سے ٹخنہ بھی ننگا ہوتا ہے۔ مگر یہ وجہ کامل نہیں کہ اس پر مسح کو ناجائز کردے۔
علامہ ابن ھمام الحنفی فرماتے ہیں:
فاذا جاز بالاتفاق المسح علی المکعب الساتر للکعب، وفی الاختیار: وکذا اذا کانت مقدمتہ مشقوقۃ اذا کانت مشدودۃ او مزرورۃ لانھا کالمخروزۃ۔ (1)
ترجمہ: ٹخنوں کو چھپانے والے موزے پر مسح کرنا بالاتفاق جائز ہے۔ اور "اختیار" میں کہا گیا ہے: جب موزہ سامنے سے پھٹا ہوا ہو مگر اسے باندھا گیا ہو یا بٹن وغیرہ کے ذریعہ جوڑدیا گیا ہو(تو اس پر بھی مسح جائز ہے) اس لیے کہ وہ سلے ہوئے کی مثل ہوگیا۔
آپ نے پھٹن والے موزے پر مسح کے جواز کے لیے کہ جسے باندھا گیا ہو سلے ہوئے موزے پر قیاس کیا ہے۔ گویا کہ سلے ہوئے موزے پر مسح کرنا تو جائز ہی ہے۔ جب آپ نے پھٹے ہوئے موزے پر جسے باندھا گیا ہو یا بٹن وغیرہ سے جوڑگیا ہو اور سلے ہوئے موزے پر مسح کرنا جائز قرار دیا ہے۔ تو وہ موزہ جس پر زِپ لگائی گئی ہو جب اسے پہن کر زِپ بندکرلی جائے گی تو اس پر بھی مسح کرنا جائز ہے۔ اور اگر زِپ کھل بھی جائے تو اس کے کھلنے کی جگہ پھٹن کی اس مقدار کو نہیں پہنچتی جس پر مسح کرنا جائز نہ ہو۔
حوالہ:
1 ۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، ج: 1 ،ص:159
علامہ ابن ھمام الحنفی فرماتے ہیں:
فاذا جاز بالاتفاق المسح علی المکعب الساتر للکعب، وفی الاختیار: وکذا اذا کانت مقدمتہ مشقوقۃ اذا کانت مشدودۃ او مزرورۃ لانھا کالمخروزۃ۔ (1)
ترجمہ: ٹخنوں کو چھپانے والے موزے پر مسح کرنا بالاتفاق جائز ہے۔ اور "اختیار" میں کہا گیا ہے: جب موزہ سامنے سے پھٹا ہوا ہو مگر اسے باندھا گیا ہو یا بٹن وغیرہ کے ذریعہ جوڑدیا گیا ہو(تو اس پر بھی مسح جائز ہے) اس لیے کہ وہ سلے ہوئے کی مثل ہوگیا۔
آپ نے پھٹن والے موزے پر مسح کے جواز کے لیے کہ جسے باندھا گیا ہو سلے ہوئے موزے پر قیاس کیا ہے۔ گویا کہ سلے ہوئے موزے پر مسح کرنا تو جائز ہی ہے۔ جب آپ نے پھٹے ہوئے موزے پر جسے باندھا گیا ہو یا بٹن وغیرہ سے جوڑگیا ہو اور سلے ہوئے موزے پر مسح کرنا جائز قرار دیا ہے۔ تو وہ موزہ جس پر زِپ لگائی گئی ہو جب اسے پہن کر زِپ بندکرلی جائے گی تو اس پر بھی مسح کرنا جائز ہے۔ اور اگر زِپ کھل بھی جائے تو اس کے کھلنے کی جگہ پھٹن کی اس مقدار کو نہیں پہنچتی جس پر مسح کرنا جائز نہ ہو۔
حوالہ:
1 ۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، ج: 1 ،ص:159