فتویٰ
کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟
جواب
جسم کے اندر کچھ بھی داخل کرنے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لیے ڈرپ کا خون جسم کے اندر داخل ہونے کی بنا پر وضو نہیں ٹوٹے گا اور نہ ہی انجیکشن لگاتے وقت وضو ٹوٹے گا۔کیونکہ وضو کا ٹوٹنا خروج نجاست کے ساتھ خاص ہے نہ کہ دخول کے ساتھ۔ امام ابنِ حمام حنفی فرماتے ہیں:
و صفۃ النجاسۃ الرافعہ للطہارۃ انما ھی قائمۃ بالخارج۔ (1)
ترجمہ: نجاست کی صفت وضو کو ختم کردینا ہے اور یہ خروج کے ساتھ مخصوص ہے۔
لیکن اگر ڈرپ لگاتے وقت یا اتارتے وقت خون خارج ہو گیا تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔اسی طرح سے انجیکشن لگنے کی وجہ سے بھی وضو لازم نہیں ہے اگر خون جسم سے خارج نہ ہو کیونکہ خون کا جسم سے خارج ہونا ہی(جو مقدارِسیلان ہو) وضو کو توڑنے کےلئے کافی ہے چاہے وہ خون جلد پر نہ بہے اور آلۂ انجیکشن کے اندر چلا جائے۔ کہ اگر خون جسم سے خارج ہوا اور انجیکشن کے اندر چلا گیا تو بھی وضو کرنا لازم ہوگا۔انجیکشن یا ڈرپ لگاتے وقت عموماً خون کو دوائی جسم میں داخل کرنے سے پہلے کھینچا جاتا ہے اگر وہ خون اتنی مقدار میں ہو کہ جسم پر بہنے کے قابل ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر۔ (2)
ترجمہ: خون اور پیپ ، جبکہ وہ مخرج سے نکل کر اتنا تجاوز کر جائیں کہ پاکیزگی والی جگہ تک پہنچ جائیں، ناقض وضو ہے۔
لہذا خون جسم پر آئے یا ناقض وضو مقدار کسی آلہ میں داخل ہو جائے وضو ٹوٹ جائے گاکیونکہ خون کا خارج ہونا ہی ناقض وضو ہے۔
حوالہ جات:
1۔ ابن ہمام ، فتح القدیر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ج : 1 ، ص : 38
2۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 24
و صفۃ النجاسۃ الرافعہ للطہارۃ انما ھی قائمۃ بالخارج۔ (1)
ترجمہ: نجاست کی صفت وضو کو ختم کردینا ہے اور یہ خروج کے ساتھ مخصوص ہے۔
لیکن اگر ڈرپ لگاتے وقت یا اتارتے وقت خون خارج ہو گیا تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔اسی طرح سے انجیکشن لگنے کی وجہ سے بھی وضو لازم نہیں ہے اگر خون جسم سے خارج نہ ہو کیونکہ خون کا جسم سے خارج ہونا ہی(جو مقدارِسیلان ہو) وضو کو توڑنے کےلئے کافی ہے چاہے وہ خون جلد پر نہ بہے اور آلۂ انجیکشن کے اندر چلا جائے۔ کہ اگر خون جسم سے خارج ہوا اور انجیکشن کے اندر چلا گیا تو بھی وضو کرنا لازم ہوگا۔انجیکشن یا ڈرپ لگاتے وقت عموماً خون کو دوائی جسم میں داخل کرنے سے پہلے کھینچا جاتا ہے اگر وہ خون اتنی مقدار میں ہو کہ جسم پر بہنے کے قابل ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر۔ (2)
ترجمہ: خون اور پیپ ، جبکہ وہ مخرج سے نکل کر اتنا تجاوز کر جائیں کہ پاکیزگی والی جگہ تک پہنچ جائیں، ناقض وضو ہے۔
لہذا خون جسم پر آئے یا ناقض وضو مقدار کسی آلہ میں داخل ہو جائے وضو ٹوٹ جائے گاکیونکہ خون کا خارج ہونا ہی ناقض وضو ہے۔
حوالہ جات:
1۔ ابن ہمام ، فتح القدیر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ج : 1 ، ص : 38
2۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 24