واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 48

جواب

جو شخص قدرتی اعضاء سے معذور ہوجائے اور پھر مصنوعی اعضاء کا استعمال کرتا ہو اس کےلئے ان اعضاء کو دھونا لازم نہیں ہوگا۔کیونکہ قدرتی اعضاء کے ضائع ہوجانے پر وہ اس کا مکلف ہی نہیں رہا کہ وضو و غسل کا تعلق تو انسان کے قدرتی و اصلی اعضاء کے ساتھ ہے۔
مصنوعی اعضاء کو جوڑتے وقت جو انسانی بدن کا حصہ ان اعضاء میں چھپا ہو گا تو اس کا حکم مختلف ہوگا۔ اگر وہ حصہ اعضاءِوضو میں شامل ہو تو وضو کرتے وقت ان اعضاء کو آسانی سے اتارا جاسکتا ہو تو اتارا جائے گا اور اگر مشکل ہو اور باربار اتارنے میں حرج لازم آتا ہو تو رخصت مل جائے گی اس میں رخصت فقہ کے سابقہ قاعدہ کی بنا پر ہے۔ اور اس وجہ سے بھی کہ ان کو پٹی کے حکم میں کرلیا جائے گا کہ جس طرح سے پٹی پر مسح کرنا جائز ہے اسی طرح سے ان پر مسح بھی جائز ہو جائے گا۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
و یجوز المسح علی الجبائر وان شدھا علی غیر وضوء۔ (1)
ترجمہ: اور پٹی پر مسح کرنا جائز ہے اگرچہ اسے بغیر وضو کیے ہی باندھا گیا ہو۔
اور غسل میں تو تمام بدن ہی دھونا لازم ہے اس لیے غسل کرتے
وقت ان کو اتارنا لازم ہو گا اگر ان کو اتارنا ممکن تو ہو مگر مشکل ہو تو پھر بھی اتارنا ضروری ہوگا کیونکہ وضو کو کثرت سے کرنا ہوتا ہے اس لیے وضو کی خاطر اتارنے میں حرج لازم آئے گا مگر غسل کےلئے اتارنے میں حرج لازم نہیں آئے گا۔
اور اگر وہ اعضاء مستقل طورپر جوڑ دئیے جائیں جن کو اتارا ہی نہ جاسکتا ہو تو پھر وضوو غسل دونوں صورتوں میں ان کے اوپر ہی اجازت دے دی جائے گی۔
حوالہ:
1 ۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطہارۃ ، باب المسح علی الخفین ، ج: 1 ، ص : 60

اصل سوال

کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟ کیا زِپ والے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟