واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 61

جواب

پیشاب کا اپنے مخرج سے خارج ہونا حدث کو لاحق کر دیتا ہے۔ جب پیشاب اپنے مخرج سے خارج ہو گیا پھر وہ زمین پر جائے، کسی برتن میں جائے یا نلکی میں جائے ہر طرح سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ پیشاب کا خروج ہی حدث لاحق کر دیتا ہے۔ صاحب قدوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ومعانی الناقضۃ للوضوء ، کل ما خرج من السبیلین۔ (1)
ترجمہ: ہر وہ چیز جو دونوں راستوں میں سے خارج ہو وضو کو توڑنے والی ہے۔
نقض وضو کےلئے سبیلین سے خروج کی شرط ہے لہٰذا جب خروج ہوگیا تو حدث لاحق ہوگیا۔اگر اس نلکی میں سے مسلسل پیشاب جاری رہے تو معذور کی حالت میں ہو جائے گا اور ہر نماز کے وقت میں وضو کرنا لازم ہوگا۔مگر اس نلکی سے پیشاب کا آنا ایسے ہی ہے جیسے زمین پر بیٹھ کر پیشاب کر دیا جائے۔ معذور ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ معذوری کی وجہ سے ناقض وضو کے پائے جانے کے باوجود وضو نہیں ٹوٹتا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وضو تو ٹوٹتا ہے مگر باربار اور بہت زیادہ بار ٹوٹنے کی وجہ سے ہر بار نیا وضو کرنا مشکل ہے۔ لہٰذا شریعت نے رعایتاً ایک نماز کا وقت نیا وضو نہ کرنے کی رخصت دے دی۔ یعنی یہ مشکل کی وجہ سے ایک نماز کے وقت میں ایک سے زائد بار وضو نہ کرنے کی رخصت ہے۔
حوالہ:
1 ۔ قدوری ، مختصر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 54,55

اصل سوال

کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟ کیا زِپ والے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟