فتویٰ
کیا نتھ (ناک کے زیور) اور بالی (کان کے زیور) کے سوراخوں کے اندر تک پانی پہنچانا وضو اور غسل میں لازم ہے؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا نتھ (ناک کے زیور) اور بالی (کان کے زیور) کے سوراخوں کے اندر تک پانی پہنچانا وضو اور غسل میں لازم ہے؟
جواب
وضو و غسل کےلیے جسم کے جس حصہ تک پانی پہنچانا لازمی ہو تا ہے اس میں یہ بھی لازمی جزء ہے کہ جلد پر جہاں تک پانی پہنچ سکتا ہے وہاں تک پہنچانا لازمی ہے۔ یعنی جہاں ناممکن ہو وہاں لازمی نہیں ہے اورجہاں راستہ ہے اور وہ ہے بھی اس حصہ سے جسے دھونا لازمی ہے تو وہاں پانی کا پہنچانا لازمی ہوگا۔ عورت نے جب نتھ یا آئرنگ پہن رکھا ہو تو پانی کا سوراخ کے اندر تک پہنچانا لازمی ہے۔ اگر پہنے ہوئے پانی نہ پہنچ سکتا ہوتو اسے اتار کر پانی پہنچائے اور ویسے ہی پہنچ جائے تو اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ابن نجیم المصری علیہ الرحمہ البحر الرائق میں فرماتے ہیں:
وجب تحریک القرط والخاتم الضیقین ولولم یکن قرط فدخل الماء الثقب عند مرورہ اجزءہ والا ادخلہ ولا یتکلف فی ادخال شئ سوی الماء من خشب و نحوہ۔ (1)
ترجمہ: آئرنگ یا انگوٹھی تنگ ہوں تو انہیں حرکت دینا لازمی ہے اور اگر آئرنگ (کان میں )نہ ہو (سوراخ خالی ہو)اور پانی گزرنے کے ساتھ ہی اس سوراخ کے اندر داخل ہوجائے تو کافی ہے ورنہ داخل کرنا لازمی ہے اور کسی دوسری چیز جیسے لکڑی وغیرہ کو داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ کان اور ناک کے زیور والے سوراخ میں پانی کا پہنچانا لازمی ہے۔ یعنی یہ غسل کےلیے حکم ہے کیونکہ وضو میں کانوں کو دھویا ہی نہیں جاتا اور منہ کو بھی صرف ظاہر سے دھونا لازم ہے۔
حوالہ:
1۔ ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، ج: 1،ص:47
وجب تحریک القرط والخاتم الضیقین ولولم یکن قرط فدخل الماء الثقب عند مرورہ اجزءہ والا ادخلہ ولا یتکلف فی ادخال شئ سوی الماء من خشب و نحوہ۔ (1)
ترجمہ: آئرنگ یا انگوٹھی تنگ ہوں تو انہیں حرکت دینا لازمی ہے اور اگر آئرنگ (کان میں )نہ ہو (سوراخ خالی ہو)اور پانی گزرنے کے ساتھ ہی اس سوراخ کے اندر داخل ہوجائے تو کافی ہے ورنہ داخل کرنا لازمی ہے اور کسی دوسری چیز جیسے لکڑی وغیرہ کو داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ کان اور ناک کے زیور والے سوراخ میں پانی کا پہنچانا لازمی ہے۔ یعنی یہ غسل کےلیے حکم ہے کیونکہ وضو میں کانوں کو دھویا ہی نہیں جاتا اور منہ کو بھی صرف ظاہر سے دھونا لازم ہے۔
حوالہ:
1۔ ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، ج: 1،ص:47