فتویٰ
کیا کریم، سرخی اور پاؤڈر لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا کریم، سرخی اور پاؤڈر لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟
جواب
بذات خود طہارت سے مانع کوئی چیزبھی نہیں ہے طہارت سے مانع وہ چیزیں ہیں جو پانی کے جسم تک پہنچنے میں مانع ہوں۔ یعنی جن چیزوں کے جسم پر لگے ہونے کی صورت میں پانی جسم تک نہ پہنچ سکتا ہو تو ان کے لگے ہونے کی صورت میں وضو و غسل درست نہ ہوگا۔ کیونکہ وضووغسل پانی کو جسم تک پہنچانے کا نام ہے۔صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
والغسل ھو الاسالۃ والمسح ھو الاصابۃ۔ (1)
ترجمہ: غسل (پانی کا) بہانا ہے اور مسح (پانی کا) پہنچانا ہے۔
اورعلامہ ابن نجیم مصری حنفی فرماتے ہیں:
والغسل بفتح الغین ازالۃ الوسخ عن الشیئ باجراء الماء علیہ لغۃ۔ و بالضم اسم من الاغتسال وھو تمام غسل الجسد۔ (2)
ترجمہ: ’’غَسل‘‘ غین کے فتح کے ساتھ لغت میں کسی چیز سے میل کو پانی کے ذریعہ سے دور کرنا ہے، اور (غُسل) ضمہ کے ساتھ ہو تو اغتسال مصدر سے اسم ہے
اورمعنی ہوگا تمام جسم کو ’’غَسل‘‘ دینا(یعنی تمام جسم کو دھونا)۔
پھر اس کے بعد فرماتے ہیں:
’’واختلف فی معناہ الشرعی فقال ابوحنیفۃ ومحمد: ھو الاسالۃ مع التقاطر۔ عن ابی یوسف: ھو مجرد بل المحل بالماء سال او لم یسل۔‘‘(3)
ترجمہ: شرعی طور پر غسل کا معنی امام اعظم و محمد علیہما الرحمہ کے نزدیک ’’اسالہ‘‘ ہے اور یہ لفظ ’’سیل‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے پانی کا بہانا۔ یعنی اس طرح پانی بہایا جائے کہ قطرے ٹپکیں۔ اور امام ابویوسف کے نزدیک صرف جسم کو تر کرنا ہے پانی بہے یا نہ بہے۔
تو اللہ تعالیٰ کے فرمان:’’فاغسلوا وجوھکم۔۔۔الآخ‘‘ کا مطلب یہ ہوگا کہ وضووغسل میں پانی کا جلد تک پہنچانا ضروری ہے تو اس لیے جو اشیاء جلد تک پانی کے پہنچنے سے مانع ہوں گی ان کے لگے ہونے کی صورت میں طہارت نہ ہوگی جو اس کے علاوہ ہیں وہاں جائز ہوگا۔تو کریم، سرخی اور پاؤڈر وغیرہ پانی کو جلد تک پہنچنے میں مانع نہیں ہے اس لیے ان جیسی اشیاء کے لگے ہونے کی صورت میں وضو وغسل ہو جائے گا۔ اگر اسالۃ الماء کومانع ہوجائیں تو وضو کو بھی مانع ہوں گی۔
حوالہ جات:
1۔ المرغینانی، الہدایۃ، کتاب الطہارۃ (بابتداء الکتاب)، ج: 1، ص:17
2۔ ابن نجیم، البحر، کتاب الطھارۃ، ج: 1،ص:25
3۔ ابن نجیم، البحر، کتاب الطھارۃ، ج: 1،ص:26
والغسل ھو الاسالۃ والمسح ھو الاصابۃ۔ (1)
ترجمہ: غسل (پانی کا) بہانا ہے اور مسح (پانی کا) پہنچانا ہے۔
اورعلامہ ابن نجیم مصری حنفی فرماتے ہیں:
والغسل بفتح الغین ازالۃ الوسخ عن الشیئ باجراء الماء علیہ لغۃ۔ و بالضم اسم من الاغتسال وھو تمام غسل الجسد۔ (2)
ترجمہ: ’’غَسل‘‘ غین کے فتح کے ساتھ لغت میں کسی چیز سے میل کو پانی کے ذریعہ سے دور کرنا ہے، اور (غُسل) ضمہ کے ساتھ ہو تو اغتسال مصدر سے اسم ہے
اورمعنی ہوگا تمام جسم کو ’’غَسل‘‘ دینا(یعنی تمام جسم کو دھونا)۔
پھر اس کے بعد فرماتے ہیں:
’’واختلف فی معناہ الشرعی فقال ابوحنیفۃ ومحمد: ھو الاسالۃ مع التقاطر۔ عن ابی یوسف: ھو مجرد بل المحل بالماء سال او لم یسل۔‘‘(3)
ترجمہ: شرعی طور پر غسل کا معنی امام اعظم و محمد علیہما الرحمہ کے نزدیک ’’اسالہ‘‘ ہے اور یہ لفظ ’’سیل‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے پانی کا بہانا۔ یعنی اس طرح پانی بہایا جائے کہ قطرے ٹپکیں۔ اور امام ابویوسف کے نزدیک صرف جسم کو تر کرنا ہے پانی بہے یا نہ بہے۔
تو اللہ تعالیٰ کے فرمان:’’فاغسلوا وجوھکم۔۔۔الآخ‘‘ کا مطلب یہ ہوگا کہ وضووغسل میں پانی کا جلد تک پہنچانا ضروری ہے تو اس لیے جو اشیاء جلد تک پانی کے پہنچنے سے مانع ہوں گی ان کے لگے ہونے کی صورت میں طہارت نہ ہوگی جو اس کے علاوہ ہیں وہاں جائز ہوگا۔تو کریم، سرخی اور پاؤڈر وغیرہ پانی کو جلد تک پہنچنے میں مانع نہیں ہے اس لیے ان جیسی اشیاء کے لگے ہونے کی صورت میں وضو وغسل ہو جائے گا۔ اگر اسالۃ الماء کومانع ہوجائیں تو وضو کو بھی مانع ہوں گی۔
حوالہ جات:
1۔ المرغینانی، الہدایۃ، کتاب الطہارۃ (بابتداء الکتاب)، ج: 1، ص:17
2۔ ابن نجیم، البحر، کتاب الطھارۃ، ج: 1،ص:25
3۔ ابن نجیم، البحر، کتاب الطھارۃ، ج: 1،ص:26