واپس فتاویٰ

فتویٰ

غسل میں مصنوعی دانتوں کی موجودگی میں کلی کرنے کا کیا حکم ہے؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 1

سوال

غسل میں مصنوعی دانتوں کی موجودگی میں کلی کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

غسل کے لیے کلی کرنا لازمی ہے اور کلی کرتے وقت دانت ہوں تو ان تک پانی پہنچانا اور اگر دانت نہ ہوں تو مسوڑھوں تک پانی پہنچانا لازمی ہے۔ اس لیے مصنوعی دانتوں کی صورت میں بھی غسل کا وہی مصنوعی اعضاء والا حکم ہوگا۔ کہ اگر ان دانتوں کو اتارنا ناممکن ہویعنی وہ مستقل طور پر جوڑ دئیے گئے ہوں تو ان دانتوں کو ہی اصلی دانتوں کی جگہ تصور کیا جائے اور ان پر پانی پہنچا نا لازم ہوگا اور اگر ان کو اتارا جا سکتا ہو تو ان کے نیچے تک پانی پہنچانے کےلیے ان کواتارنا لازمی ہوگا۔

مزید فتاویٰ جات

کیا ناخن پالش لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟ کیا کریم، سرخی اور پاؤڈر لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟ کیا ٹرین یا جہاز میں پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا جا سکتا ہے، اگر ذریعۂ تیمم میسر... کیا ممنوع خضاب لگا ہونے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح ہو جائے گا؟ کیا سر یا داڑھی پر خضاب لگا ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟