واپس فتاویٰ

فتویٰ

غسل میں مصنوعی دانتوں کی موجودگی میں کلی کرنے کا کیا حکم ہے؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 28

جواب

غسل کے لیے کلی کرنا لازمی ہے اور کلی کرتے وقت دانت ہوں تو ان تک پانی پہنچانا اور اگر دانت نہ ہوں تو مسوڑھوں تک پانی پہنچانا لازمی ہے۔ اس لیے مصنوعی دانتوں کی صورت میں بھی غسل کا وہی مصنوعی اعضاء والا حکم ہوگا۔ کہ اگر ان دانتوں کو اتارنا ناممکن ہویعنی وہ مستقل طور پر جوڑ دئیے گئے ہوں تو ان دانتوں کو ہی اصلی دانتوں کی جگہ تصور کیا جائے اور ان پر پانی پہنچا نا لازم ہوگا اور اگر ان کو اتارا جا سکتا ہو تو ان کے نیچے تک پانی پہنچانے کےلیے ان کواتارنا لازمی ہوگا۔

اصل سوال

غسل میں مصنوعی دانتوں کی موجودگی میں کلی کرنے کا کیا حکم ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟