واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا گریس، گوند یا اس جیسی چیزیں لگی ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 31

جواب

جو لوگ ورکشاپس وغیرہ پر کام کرتے ہیں تو انہیں یہ مسائل پیش آتے ہیں کہ وہ جب گریس وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں تو وہ ان کے ہاتھوں کو بھی لگ جاتی ہے۔ اس صورت میں طہارت کے احکام کیا ہوں گے؟ اس حوالہ وضاحت یہ ہے کہ گریس اور گوند چکنائی والی ایک طرح کی ٹھوس چیزیں ہیں جو کہ گھی اور چربی کی مثل ہوتی ہیں۔ علامہ حصکفی نے غیر موانع کے بیان میں ’’دھن‘‘ (تیل)کا بھی ذکر کیا۔ تشریح میں علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
بخلاف نحو شحم و سمن جامد۔ (1)
ترجمہ: وہ چربی اور گھی جو پگھلا ہوا نہ ہو ان کی مثل اشیاء کا حکم مختلف ہے۔
کہ ایسی اشیاء کے جسم پر لگے ہونے کی صورت میں وضو وغسل نہیں جب تک کہ ان کو پہلے دور نہ کردیا جائے لیکن اگر گریس یا گوند کی چکنائی اور ان کا رنگ جسم پر باقی ہو تو پھر جائز ہے کیونکہ رنگ مہندی کی مثل ہو جائے گا کہ جس پر وضو و غسل جائز ہے اور چکنائی تیل کی مثل ہوگی کہ جس پر جائز ہے۔علامہ شامی فرماتے ہیں:
قال المقدسی: و فی الفتاوی دھن رجلیہ ثم توضأ و امرّ الماء علی رجلیہ و لم یقبل الماء للدسومۃ جاز لوجود غسل الرجلین۔ (2)
ترجمہ: مقدسی نے کہا کہ فتاوی میں ہے کہ (اگر) کسی نے اپنے پاؤں پر تیل لگایا
پھر وضو کیا اور پانی اپنے پاؤں پر بہادیا مگر پانی پاؤں پر ٹھہرا نہیں تو وضو ہو گیا کیونکہ پاؤں کا دھویا جانا پایا گیا ہے۔
حوالہ جات:
1۔ شامی ، رد المحتار، کتاب الہارۃ ، مطلب فی ابحاث الغسل ، ج 1 : ص : 288
2۔ شامی ، رد المحتار، کتاب الہارۃ ، مطلب فی ابحاث الغسل ، ج 1 : ص : 288

اصل سوال

کیا گریس، گوند یا اس جیسی چیزیں لگی ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟