فتویٰ
کیا حقہ، بیڑا، سگریٹ یا پان استعمال کرنے کے بعد وضو کرنا ضروری ہے؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا حقہ، بیڑا، سگریٹ یا پان استعمال کرنے کے بعد وضو کرنا ضروری ہے؟
جواب
’’کل ماخرج من السبیلین‘‘ (1)ناقض وضو ہے اور اس پرعلماء نے قیاس کرتے ہوئے ہر خارج ہونے والی نجاست کو ناقض وضو قرار دیا ہے جیسے خون یا پیپ کا خارج ہونا وہ جسم کے جس حصہ سے بھی خارج ہوجائے۔ اول یہ کہ مذکورہ بالا اشیاء نجس نہیں کہ نجس کے خروج سے نقضِ وضو لازم آتا ہے۔
اور دوسری اس سے بھی واضح بات یہ ہے کہ وضو کسی نجاست کے جسم سے خارج ہونے سے لازم ہوتا ہے نہ کہ کچھ کھانے پینے یا کسی چیز کے جسم کے اندر داخل ہونے سے لازم ہوگا۔ امام شافعی علیہ الرحمہ نے نماز میں قہقہہ کو ناقضِ وضو نہ قرار دینے کی یہ علت بیان کی:
لانہ لیس بخارج نجس۔ (2)
ترجمہ: اس لیے کہ قہقہہ نجاست کے خروج کا سبب نہیں ہے۔
اور احناف نے بھی ان کی اس علت کو رد نہیں کیا بلکہ اپنے موقف کےلئے حدیثِ رسولﷺ کو دلیل بنایا جبکہ امام شافعی علیہ الرحمہ کی بیان کردہ علت کو قبول کرلیا۔ اور حدیث رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے خلاف قیاس فتویٰ دیا ہے۔ لہٰذا حقہ، بیڑا ، سگریٹ اور پان کھانے کی صورت میں بھی وضو نہیں ٹوٹے گا لیکن ان کے بعد کلی کرنا مستحب ہے۔کیونکہ یہ سنت سے ثابت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ بعض اوقات کھانا کھانے کے بعد کلی فرمایا کرتے۔ اور یہ تمباکو نوشی وغیرہ میں تو بدرجہ اولیٰ کلی کرنا ہے۔
لیکن یہ اشیاء نواقض وضو میں شامل نہیں ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ قدوری ، مختصر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 54,55
2۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 27
اور دوسری اس سے بھی واضح بات یہ ہے کہ وضو کسی نجاست کے جسم سے خارج ہونے سے لازم ہوتا ہے نہ کہ کچھ کھانے پینے یا کسی چیز کے جسم کے اندر داخل ہونے سے لازم ہوگا۔ امام شافعی علیہ الرحمہ نے نماز میں قہقہہ کو ناقضِ وضو نہ قرار دینے کی یہ علت بیان کی:
لانہ لیس بخارج نجس۔ (2)
ترجمہ: اس لیے کہ قہقہہ نجاست کے خروج کا سبب نہیں ہے۔
اور احناف نے بھی ان کی اس علت کو رد نہیں کیا بلکہ اپنے موقف کےلئے حدیثِ رسولﷺ کو دلیل بنایا جبکہ امام شافعی علیہ الرحمہ کی بیان کردہ علت کو قبول کرلیا۔ اور حدیث رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے خلاف قیاس فتویٰ دیا ہے۔ لہٰذا حقہ، بیڑا ، سگریٹ اور پان کھانے کی صورت میں بھی وضو نہیں ٹوٹے گا لیکن ان کے بعد کلی کرنا مستحب ہے۔کیونکہ یہ سنت سے ثابت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ بعض اوقات کھانا کھانے کے بعد کلی فرمایا کرتے۔ اور یہ تمباکو نوشی وغیرہ میں تو بدرجہ اولیٰ کلی کرنا ہے۔
لیکن یہ اشیاء نواقض وضو میں شامل نہیں ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ قدوری ، مختصر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 54,55
2۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 27