فتویٰ
کیا کمر سے نیچے والا حصہ بے حس (سن) کر دینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا کمر سے نیچے والا حصہ بے حس (سن) کر دینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب
نیند میں وضو کے ٹوٹ جانے کی وجہ صاحب ہدایہ بیان فرماتے ہیں:
لان الاضطجاع سبب لاسترخاء المفاصل فلا یعری عن خروج شیئ عادۃو الثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔ (1)
ترجمہ: اس لیے کہ لیٹ کر نیند کرنا اعضاء کے ڈھیلے ہونے کا سبب ہے اور عادۃً یہ حالت کسی چیز کے خروج سے خالی نہیں ہے اور جو چیز عادت سے ثابت ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے یقینی ہو۔
صاحب فتح القدیر فرماتے ہیں:
ادیر الحکم علی ما ینتھض مظنۃ لہ۔ (2)
ترجمہ: جس طرف گمان غالب ہو اس پر حکم لگایا جائے گا۔
اور علامہ عبدالحئ لکھنوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
بان المراد بالاسترخاءھو زوال القوۃ الماسکۃ۔(3)
ترجمہ: استرخاء سے مراد ہے قوۃ ماسکہ(تھامنے کی قوت، کنٹرول کی قوت ) کا زائل ہوجانا۔
اور صاحب ہدایہ قیام، رکوع اور سجدہ کی حالت میں نیند آجانے پر بھی وضو کے نہ ٹوٹنے کی وجہ بیان کرتے ہیں:
لان بعض الاستمساک باق اذ لو زال لسقط فلم یتم الاسترخاء۔ (4)
ترجمہ: اس لیے کہ (اس حالت میں) کچھ استمساک(کنٹرول اور تمسّک) باقی ہوتا ہے کہ اگر مکمل زائل ہوجاتا تو آدمی گر پڑتا تو (اس طرح ابھی) استرخاء مکمل نہیں ہوا۔
یعنی جب استرخاء مکمل ہوجائے گا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور یقیناً جب جسم کے کسی حصہ کو بے حس کیا جاتاہے تو اس میں یہ عمل بدرجہ اولیٰ موجود ہے۔ اس لیے جب جسم کا نیچے والا حصہ بے حس کیا جائے گا تو اس کے اختیار اور کنٹرول کے ختم ہوجانے کی وجہ سے عادۃً اخراج ِ شئے کا گمان ِ غالب کیا جائے گا اور وضو ٹوٹ جائے گا۔
حوالہ جات:
1۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 26
2۔ کمال الدین محمد بن عبدالواحد السکندری المعروف ابن ہمام الحنفی، تاریخ وفات:861ھ ۔فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، نواقض الوضوء، ج: 1، ص: 49
3۔ عبدالحی،حاشیۃ الہدایۃ،کتاب الطہارۃ ،باب نواقض الوضوء، ج: 1 ص :26
4۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 26
لان الاضطجاع سبب لاسترخاء المفاصل فلا یعری عن خروج شیئ عادۃو الثابت عادۃ کالمتیقن بہ۔ (1)
ترجمہ: اس لیے کہ لیٹ کر نیند کرنا اعضاء کے ڈھیلے ہونے کا سبب ہے اور عادۃً یہ حالت کسی چیز کے خروج سے خالی نہیں ہے اور جو چیز عادت سے ثابت ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے یقینی ہو۔
صاحب فتح القدیر فرماتے ہیں:
ادیر الحکم علی ما ینتھض مظنۃ لہ۔ (2)
ترجمہ: جس طرف گمان غالب ہو اس پر حکم لگایا جائے گا۔
اور علامہ عبدالحئ لکھنوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
بان المراد بالاسترخاءھو زوال القوۃ الماسکۃ۔(3)
ترجمہ: استرخاء سے مراد ہے قوۃ ماسکہ(تھامنے کی قوت، کنٹرول کی قوت ) کا زائل ہوجانا۔
اور صاحب ہدایہ قیام، رکوع اور سجدہ کی حالت میں نیند آجانے پر بھی وضو کے نہ ٹوٹنے کی وجہ بیان کرتے ہیں:
لان بعض الاستمساک باق اذ لو زال لسقط فلم یتم الاسترخاء۔ (4)
ترجمہ: اس لیے کہ (اس حالت میں) کچھ استمساک(کنٹرول اور تمسّک) باقی ہوتا ہے کہ اگر مکمل زائل ہوجاتا تو آدمی گر پڑتا تو (اس طرح ابھی) استرخاء مکمل نہیں ہوا۔
یعنی جب استرخاء مکمل ہوجائے گا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور یقیناً جب جسم کے کسی حصہ کو بے حس کیا جاتاہے تو اس میں یہ عمل بدرجہ اولیٰ موجود ہے۔ اس لیے جب جسم کا نیچے والا حصہ بے حس کیا جائے گا تو اس کے اختیار اور کنٹرول کے ختم ہوجانے کی وجہ سے عادۃً اخراج ِ شئے کا گمان ِ غالب کیا جائے گا اور وضو ٹوٹ جائے گا۔
حوالہ جات:
1۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 26
2۔ کمال الدین محمد بن عبدالواحد السکندری المعروف ابن ہمام الحنفی، تاریخ وفات:861ھ ۔فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، نواقض الوضوء، ج: 1، ص: 49
3۔ عبدالحی،حاشیۃ الہدایۃ،کتاب الطہارۃ ،باب نواقض الوضوء، ج: 1 ص :26
4۔ المرغینانی ، ہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ص : 26