واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ممنوع خضاب لگا ہونے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح ہو جائے گا؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 22

جواب

احادیث میں کالا خضاب کرنے کی ممانعت آئی ہے جبکہ بعض فقہاء نے اسے جائز بھی کہا ہے۔ کیونکہ حدیث مبارکہ ہے حضور نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
ان احسن ماختضنتم بہ لھذا السواد۔ (1)
ترجمہ: جو خضاب تم لگایا کرتے ہو ان میں سے سیاہ خضاب بہترین ہے۔
لیکن اکثر فقہاء کے نزدیک کالاخضاب جائز نہیں ہے کیونکہ احادیث میں اس سے ممانعت بھی ہے۔لہٰذا اگر ممنوع بھی ہوتو اس خضاب کی ممانعت کی وجہ اس کا ’’کالا‘‘ ہونا ہے نہ کہ طہارت کے منافی ہونا اور نہ خود ناپاک ہے۔ لہٰذا یہ خضاب بھی اپنی ماہیت میں سرخ خضاب کی مثل پاک ہے اور مانعِ طہارت نہیں لہٰذا جس طرح سے سرخ خضاب پر طہارت درست ہے اسی طرح سے کالے خضاب پر بھی طہارت درست ہے۔ اس کا استعمال جائز ہے یا ناجائز ہے یہ الگ بحث ہے۔
حوالہ:
1 ۔ ابن ماجہ ، السنن ، کتاب اللباس ، رقم الحدیث : 505

اصل سوال

کیا ممنوع خضاب لگا ہونے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح ہو جائے گا؟

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟