فتویٰ
کیا ممنوع خضاب لگا ہونے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح ہو جائے گا؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا ممنوع خضاب لگا ہونے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح ہو جائے گا؟
جواب
احادیث میں کالا خضاب کرنے کی ممانعت آئی ہے جبکہ بعض فقہاء نے اسے جائز بھی کہا ہے۔ کیونکہ حدیث مبارکہ ہے حضور نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
ان احسن ماختضنتم بہ لھذا السواد۔ (1)
ترجمہ: جو خضاب تم لگایا کرتے ہو ان میں سے سیاہ خضاب بہترین ہے۔
لیکن اکثر فقہاء کے نزدیک کالاخضاب جائز نہیں ہے کیونکہ احادیث میں اس سے ممانعت بھی ہے۔لہٰذا اگر ممنوع بھی ہوتو اس خضاب کی ممانعت کی وجہ اس کا ’’کالا‘‘ ہونا ہے نہ کہ طہارت کے منافی ہونا اور نہ خود ناپاک ہے۔ لہٰذا یہ خضاب بھی اپنی ماہیت میں سرخ خضاب کی مثل پاک ہے اور مانعِ طہارت نہیں لہٰذا جس طرح سے سرخ خضاب پر طہارت درست ہے اسی طرح سے کالے خضاب پر بھی طہارت درست ہے۔ اس کا استعمال جائز ہے یا ناجائز ہے یہ الگ بحث ہے۔
حوالہ:
1 ۔ ابن ماجہ ، السنن ، کتاب اللباس ، رقم الحدیث : 505
ان احسن ماختضنتم بہ لھذا السواد۔ (1)
ترجمہ: جو خضاب تم لگایا کرتے ہو ان میں سے سیاہ خضاب بہترین ہے۔
لیکن اکثر فقہاء کے نزدیک کالاخضاب جائز نہیں ہے کیونکہ احادیث میں اس سے ممانعت بھی ہے۔لہٰذا اگر ممنوع بھی ہوتو اس خضاب کی ممانعت کی وجہ اس کا ’’کالا‘‘ ہونا ہے نہ کہ طہارت کے منافی ہونا اور نہ خود ناپاک ہے۔ لہٰذا یہ خضاب بھی اپنی ماہیت میں سرخ خضاب کی مثل پاک ہے اور مانعِ طہارت نہیں لہٰذا جس طرح سے سرخ خضاب پر طہارت درست ہے اسی طرح سے کالے خضاب پر بھی طہارت درست ہے۔ اس کا استعمال جائز ہے یا ناجائز ہے یہ الگ بحث ہے۔
حوالہ:
1 ۔ ابن ماجہ ، السنن ، کتاب اللباس ، رقم الحدیث : 505