واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا شرم گاہ کو چھونے یا ستر کھل جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ مس ذکر سے اور حصہ ستر کے کھل جانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 1

سوال

کیا شرم گاہ کو چھونے یا ستر کھل جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
مس ذکر سے اور حصہ ستر کے کھل جانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا

جواب

عوام اور جہلاء کے اندر مشہور ہے کہ شرمگاہ کو چھولینے سے یا شرمگاہ کے کھل جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ یہ سراسر باطل اور بے سروپا افواہِ عوام ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔ وضو کا ٹوٹنا جسمانی عوارض سے خاص ہے یعنی خروج نجاست ناقض وضو ہے۔ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ وضو کا ٹوٹنا خروج سے خاص ہے جیسا کہ ابن ہمام فرماتے ہیں:
انما ھی قائمۃ بالخارج۔ (1)
ترجمہ: کہ وضو کا ٹوٹنا (کسی نجاست کے) خارج ہونےسے خاص ہے۔
پس شرمگاہ کو چھونے یا ظاہر کرنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس میں خروج نجاست کی کوئی بھی صورت نہیں پائی جارہی۔
حوالہ جات:
1 ۔ ابن ہمام ، فتح القدیر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ج : 1 ، ص : 38

مزید فتاویٰ جات

کیا زِپ والے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟ کیا کریم، سرخی اور پاؤڈر لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟ کیا ٹرین یا جہاز میں پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا جا سکتا ہے، اگر ذریعۂ تیمم میسر... کیا ناخن پالش لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟ کیا سر یا داڑھی پر خضاب لگا ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟