کیا شرم گاہ کو چھونے یا ستر کھل جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
مس ذکر سے اور حصہ ستر کے کھل جانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا
فتویٰ
کیا شرم گاہ کو چھونے یا ستر کھل جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ مس ذکر سے اور حصہ ستر کے کھل جانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
جواب
عوام اور جہلاء کے اندر مشہور ہے کہ شرمگاہ کو چھولینے سے یا شرمگاہ کے کھل جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ یہ سراسر باطل اور بے سروپا افواہِ عوام ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔ وضو کا ٹوٹنا جسمانی عوارض سے خاص ہے یعنی خروج نجاست ناقض وضو ہے۔ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ وضو کا ٹوٹنا خروج سے خاص ہے جیسا کہ ابن ہمام فرماتے ہیں:
انما ھی قائمۃ بالخارج۔ (1)
ترجمہ: کہ وضو کا ٹوٹنا (کسی نجاست کے) خارج ہونےسے خاص ہے۔
پس شرمگاہ کو چھونے یا ظاہر کرنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس میں خروج نجاست کی کوئی بھی صورت نہیں پائی جارہی۔
حوالہ جات:
1 ۔ ابن ہمام ، فتح القدیر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ج : 1 ، ص : 38
انما ھی قائمۃ بالخارج۔ (1)
ترجمہ: کہ وضو کا ٹوٹنا (کسی نجاست کے) خارج ہونےسے خاص ہے۔
پس شرمگاہ کو چھونے یا ظاہر کرنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس میں خروج نجاست کی کوئی بھی صورت نہیں پائی جارہی۔
حوالہ جات:
1 ۔ ابن ہمام ، فتح القدیر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ج : 1 ، ص : 38