واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا شرم گاہ کو چھونے یا ستر کھل جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ مس ذکر سے اور حصہ ستر کے کھل جانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 34

جواب

عوام اور جہلاء کے اندر مشہور ہے کہ شرمگاہ کو چھولینے سے یا شرمگاہ کے کھل جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ یہ سراسر باطل اور بے سروپا افواہِ عوام ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔ وضو کا ٹوٹنا جسمانی عوارض سے خاص ہے یعنی خروج نجاست ناقض وضو ہے۔ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ وضو کا ٹوٹنا خروج سے خاص ہے جیسا کہ ابن ہمام فرماتے ہیں:
انما ھی قائمۃ بالخارج۔ (1)
ترجمہ: کہ وضو کا ٹوٹنا (کسی نجاست کے) خارج ہونےسے خاص ہے۔
پس شرمگاہ کو چھونے یا ظاہر کرنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس میں خروج نجاست کی کوئی بھی صورت نہیں پائی جارہی۔
حوالہ جات:
1 ۔ ابن ہمام ، فتح القدیر ، کتاب الطھارۃ ، نواقض الوضوء ، ج : 1 ، ص : 38

اصل سوال

کیا شرم گاہ کو چھونے یا ستر کھل جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
مس ذکر سے اور حصہ ستر کے کھل جانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟