قبر پر جاکر تلاوت کرنا، تسبیح وتہلیل، اذکارواوراد، اور دعاو استغفار کرنے کے سوا اگر کوئی اپنے گھر بیٹھے یا کہیں سے بھی مذکورہ اعمال صالحہ میں سے کوئی عمل کرکے میت کو ایصال کرتا ہے۔ اس کا یہ عمل جائز، مستحسن اور مسنون ہے۔ اور اس کاثواب میت تک پہنچنا ثابت ہے۔ جس پر کثیر احادیث شاہد ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جس نے یہ کلمات ایک بار کہے:
الحمدللہ رب العالمین، رب السموت، ورب الارض رب العالمین، ولہ الکبریاء فی السموت والارض، وھو العزیز الحکیم، للہ الحمد رب السموت ورب الارض رب العالمین، ولہ العظمۃ فی السموت والارض وھو العزیز الحکیم، ھو الملک رب السموت ورب الارض ورب العالمین، ولہ النور فی السموت والارض وھو العزیز الحکیم۔
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں کہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، آسمانوں کارب ہے، زمین کا رب اور تمام جہانوں کا رب ہے۔ زمین وآسمان میں بڑائی اسی کی ہےاور وہ غالب حکمت والا ہے۔ اللہ کےلیے تمام تعریفیں جو آسمانوں کا رب، زمین کا رب اور تمام جہانوں کا رب ہے۔ اورزمین وآسمان کی ساری عظمتیں اس کےلیے ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ وہ بادشاہ ہے، زمین وآسمان کا رب اور تمام جہانوں کارب ہے۔ زمین وآسمان کا نور اسی کا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔
پھر اس نے کہا:
اللھم اجعل ثوابھا لوالدی۔(1)
ترجمہ: اے اللہ اس کا ثواب میرے والدین کو پہنچا۔
لم یبق لوالدیہ حق الا اداہ الیھما۔(2)
ترجمہ: اس کے ذمہ والدین کا کوئی حق باقی نہیں رہے گا سب کا سب اس نے ادا کردیا۔
امام نووی فرماتے ہیں:
اجمع العلماء علی ان الدعاء ینفعھم ویصلھم ثوابہ، لقولہ تعالیٰ: "وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ ۔ " وغیر ذالک من الآیات، وبالاحادیث المشہورۃ منھا: قولہﷺ: اللھم اغفر لاھل بقیع الغرقد، ومنھا قولہﷺ: اللھم اغفر لحینا ومیتناوغیر ذلک۔ (3)
ترجمہ: علماء کا اس پر اجماع ہے کہ دعا مردوں کو نفع دیتی ہے اور اس کا(اور دیگر نیک کاموں کا) ثواب بھی ان تک پہنچتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: " اور وہ لوگ (بھی) جو ان (مہاجرین و انصار) کے بعد آئے (اور) عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی، جو ہم سے پہلے ایمان لائے " اور اس کے علاوہ آیات(سے بھی یہی ثابت ہے)، اور احادیث مشہورہ کے ساتھ(یہ موقف اختیار کرلینا درست ہے) جن میں سے ایک رسول اللہﷺ کا یہ دعا کرنا: "اے اللہ بقیع غرقد والوں کو بخش دے۔" اور ان میں سے آپﷺ کی یہ دعاکہ:"اے اللہ ہمارے زندوں اور مردوں کو بخش دے۔"اور ان کے علاوہ بھی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض گزار ہوئی:
ان امی نذرت ان تحج فلم تحج حتی ماتت، افاحج عنھا؟ قال: نعم حجی عنھا، ارأیت لو کان علی امک دین اکنت قاضیتہ؟ اقضوا اللہ، فاللہ احق بالوفاء۔ (4)
ترجمہ: میری ماں نے نذر مانی تھی کہ حج کرے گی، لیکن حج نہ کرسکی اور فوت ہوگئی، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہاں! اس کی طرف سے حج کر، اگر تیری ماں کے ذمہ قرض ہوتا تو تیرا کیا خیال ہےکہ توکیا اسے ادا کرتی؟ (یقیناً ادا کرتی، ایسے ہی) اللہ کا قرض ادا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ وفا کا زیادہ حقدار ہے۔
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
خیر مایخلف الرجل من بعدہ ثلاث: ولد صالح یدعو لہ، وصدقۃ تجری یبلغہ اجرھا، وعلم یعمل بہ من بعدہ۔ (5)
ترجمہ: بندہ اپنے پیچھے تین چیزیں اچھی چھوڑ جاتا ہے: وہ نیک اولاد جو اس کےلیے(مرنے کے بعد) دعا کرتی رہے، اور وہ صدقۂ جاریہ کہ جس کا اجر اسے(قبر میں بھی) پہنچتا رہے گا، اور وہ علم کہ پر اس کے بعد عمل کیا جاتا رہے(اور اس کا ثواب اسے پہنچتا رہے)۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا:
یارسول اللہﷺ اذا نتصدق عن موتاناونحج عنھم وندعولھم فھل یصل ذلک الیھم؟ قال: نعم، ویفرحون بہ کما یفرح احدکم بالطبق اذا اھدی الیہ۔ (6)
ترجمہ: یارسول اللہﷺ جب ہم اپنے مردوں کےلیے صدقہ کرتے ہیں، اور ان کی طرف سے حج کرتے ہیں، اور ان کےلیے دعا کرتے ہیں تو کیا یہ ان تک پہنچتا ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہاں! اور وہ اس سے خوش ہیں جیسے تم میں کسی کو تحفہ دیا جائے تو وہ خوش ہوگا۔
اور ابوجعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنھم سے روایت ہے کہ حضرت امام حسن اور امام حسین علیہما السلام حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے غلام آزاد کیا کرتے تھے۔ (7)
یہ ثابت ہوگیا کہ میت کو ایصالِ ثواب کرنا درست اور جائز ہے، اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ دنوں کا تعین کہاں سے ثابت ہے؟ تو یہ اعتراض ہی غلط ہے اور لائق التفات نہیں ہے۔ کیونکہ شریعت میں تعین ایام سے کہیں بھی منع کیا گیا، لہٰذا اس عمل کےلیے جس دن کا بھی تعین کرلیا جائے تو ازروئے شرع ممنوع نہیں ہے۔ اور شریعت میں خود کئی کاموں کےلیے ایام کا تعین کیا جاتا ہے، جس کی مثالی کثیر ہیں جن کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کےعلاوہ بھی بے شمار احادیث ہیں کہ جن میں ایصال ثواب کا ثبوت واضح ہے مگر اختصار کے پیش نظر اسی پر اکتفاء ہے۔اس پر مزید تفصیل کےلیے عمدۃ القاری کا درج بالا حوالہ سے اور ابن حجر عسقلانی کی الفتح الباری درج ذیل حوالہ سےمطالعہ مفید ہے۔
فتویٰ
کیا میت کے لیے تیسرے، ساتویں، چالیسویں دن یا جمعرات وغیرہ کو صدقات و خیرات کرکے ایصالِ ثواب کرنا جائز اور مستحسن ہے؟
جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
2۔ الحشر10 / 59
3۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
4۔ بخاری،الصحیح،کتاب جزاء الصید،باب الحج والنذور عن المیت،رقم:1852
5۔ ابن ماجۃ، السنن، باب ثواب معلم الناس الخیر، رقم الحدیث:241
6۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
7۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
8۔ عسقلانی، الفتح الباری، کتاب جزاء الصید، باب الحج والنذور عن المیت، شرح رقم البخاری: 1852
2۔ الحشر10 / 59
3۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
4۔ بخاری،الصحیح،کتاب جزاء الصید،باب الحج والنذور عن المیت،رقم:1852
5۔ ابن ماجۃ، السنن، باب ثواب معلم الناس الخیر، رقم الحدیث:241
6۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
7۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
8۔ عسقلانی، الفتح الباری، کتاب جزاء الصید، باب الحج والنذور عن المیت، شرح رقم البخاری: 1852
اصل سوال
کیا میت کے لیے تیسرے، ساتویں، چالیسویں دن یا جمعرات وغیرہ کو صدقات و خیرات کرکے ایصالِ ثواب کرنا جائز اور مستحسن ہے؟