بعض علاقوں میں جنازہ سے پہلے میت کی چارپائی کے نیچے گندم وغیرہ رکھ دی جاتی ہے، جس کا مقصد صدقہ کرکے میت کو ایصال ثواب کرنا ہوتا ہے۔ اور اس عمل کو بعض علاقوں میں "بیڑی بھاڑا" کا نام دیا جاتا ہے۔ یہاں پر دو سوال ہیں: ایک یہ کہ ایصال ثواب کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور دوسرا یہ کہ میت کی چارپائی کے نیچے رکھنا درست ہے یا نہیں؟
اول سوال کا جواب تو تفصیلاً بیان کردیا گیا ہے کہ میت کو ایصالِ ثواب کرنا ناصرف جائز اور درست ہے بلکہ مسنون اور مستحسن بھی ہے۔ اور دوسرے سوال کی وضاحت بھی مندرجہ ذیل ہے۔
اگر نیت میت سے تبرک کی ہوتو یہ بالکل غیر شرعی کام ہوگا۔ یا ایسا عمل ایصالِ ثواب کےلیے لازمی تصور کیا جاتا ہوتو یہ تصور غلط ہے اور ایسا کرنا بھی فضول ہے(صدقہ تو درست ہے میت کے نیچے رکھنا فضول ہوگا)۔ اور اگر صدقہ کے مال کی برکت میت کو موصول کرانا مقصود ہوتو اس میں برائی نہیں۔ مگر پھر بھی میت کے نیچے رکھنے کی حاجت نہیں ہے بلکہ اس سے بچا جائے کیونکہ اس سے ذہنوں میں انتشار واقع ہوتا ہے۔ جہلاء یہ تصور کرلیتے ہیں کہ شاید یہ عمل میت سے حصول برکت کےلیے ہے۔ اگر میت کے پاس رکھنا ہی ہوتو نیچے رکھنے کی بجائے ویسے اس کے ساتھ رکھ لیا جائے اور صدقہ کردیا جائے۔ الغرض صدقہ کےلیے بھی میت کے پاس رکھنے کی حاجت نہیں ہے۔
فتویٰ
کیا میت کے پاس اناج وغیرہ بطورِ صدقہ رکھنا جائز ہے؟
جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
اصل سوال
کیا میت کے پاس اناج وغیرہ بطورِ صدقہ رکھنا جائز ہے؟