واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا میت کے پاس قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا مستحسن و مسنون ہے؟

جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: جنازہ مشاہدات: 14

جواب

میت گھر میں پڑی ہو اس وقت قرآن کی تلاوت میت کے پاس کرنا، جنازگاہ کی طرف لائے جانے کے وقت تلاوت کرتے آنا، بعد نماز جنازہ قبرستان کی طرف جب چلنے لگیں تو قرآن کی تلاوت کرنا سب مسنون ومستحسن عمل ہیں۔ تاکہ قرآن پاک کی تلاوت کے صدقہ سے میت کا سفر برزخ آسان رہے،اور قرآن بخشش کا وسیلہ بن جائے۔ سابقہ مسئلہ میں تفصیل سے بیان کردیا ہے کہ مردہ کےلیے بخشش کی دعا مختلف مراحل پر کی جائے۔ تلاوت قرآن بھی دعاواستغفار کا ہی ذریعہ ہے۔ اور خصوصاً تلاوت قرآن کی ترغیب دیتے ہوئے رسول اللہﷺ کی حدیث مبارکہ بھی ملاحظہ ہو، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قال النبی الکریمﷺ: اقرءوا یٰس علی موتاکم۔ (1)
ترجمہ: نبی مکرمﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں پر یٰس پڑھا کرو۔
آپﷺ نے سورۂ یٰس کی تلاوت کا حکم فرمایا، جبکہ دیگر قرآن سے منع نہیں فرمایا، اور نہ ہی اس سے اختصاص فرمایا۔ بلکہ اس سورۃ کا حکم تو تلاوت کی طرف ترغیب کےلیے دیا ہے۔

حوالہ

1 ۔ ابوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب القراءۃ عندالمیت، ص:353

اصل سوال

کیا میت کے پاس قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا مستحسن و مسنون ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟ کیا میت کو غسل دینے والے شخص پر خود غسل کرنا واجب ہے؟ کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟ کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟ کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟