فتویٰ
کیا معدہ تک نلکی (ٹیوب) پہنچانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا معدہ تک نلکی (ٹیوب) پہنچانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب
میڈیکل تحقیق کی غرض سے حلق کے ذریعہ سے نلکی معدہ تک پہنچائی جاتی ہے اور پھر حلق سے اسے اوپر نکالاجاتا ہے۔ معدہ کیونکہ محلِ نجاست ہے اس لیے اس نلکی کے ساتھ نجاست کے خروج کا گمان کرتے ہوئے بعض نے مطلق کہا کہ وضو ٹوٹ جائے گا۔ اس حوالہ سے صاحب ہدایہ کی عبارت اور اس پر علامہ بدرالدین عینی کی شرح ملاحظہ ہو:
فان قاء بلغما فغیر ناقض عند ابی حنیفہ و محمد۔۔۔ولھما انہ لزج لا تتخللہ النجاسۃ(شرح العینی:ای لا یتداخلہ النجاسۃ و لا یدخل فی اجزائہ) و ما یتصل بہ قلیل والقلیل فی القیئ غیر ناقض(شرح العینی:لانہ لا یحتمل السیلان، والسیلان فی غیر السبیلین اقیم مقام الخروج و لم یوجدہ)۔
ترجمہ: اگر کسی نے بلغم کی قئے کردی تو یہ شیخین کے نزدیک ناقض وضو نہیں ہے۔ اور ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ چکناہٹ والی ہوتی ہے جس میں نجاست شامل نہیں ہوتی۔( شرح عینی: یعنی نجاست اس میں داخل نہیں ہوسکتی اور نہ اس کے اجزاء میں داخل ہوسکتی ہے۔)مرغینانی:اور جو اس کے ساتھ مل جائے گی وہ قلیل مقدار میں ہوگی اور قلیل مقدار قئے میں ناقض نہیں ہے۔ (شرح عینی: اس لیے کہ وہ قلیل مقدار سیلان کا احتمال نہیں رکھتی اور غیرِ سبیلین میں سیلان خروج کے قائم مقام ہے اور وہ یہاں نہیں ہے۔)
عبارت ہدایہ کی شرح کرتے ہوئے علامہ عینی علیہ الرحمہ نے وضاحت فرمادی کہ غیر سبیلین میں سیلان کی مقدار سے خروج کا اعتبار کیا جائے گا۔ لہٰذا جب اپنے اصلِ مصدر سے نکلنے والی قئے میں سیلان کا اعتبار کیا جائے گا تو خارجِ معدہ کے ساتھ خروج نجاست کے گمان کے ساتھ مطلق نقض وضو کا حکم لگانا درست نہ ہوگا۔لہٰذا نلکی کے ساتھ لگنے والی نجاست دیکھی جائے گی اگر تو وہ مقدارِ سیلان کو پہنچتی ہے تو وضو توڑ دے گی اور اگر نہیں پہنچتی تو وضو نہیں توڑے گی۔
حوالہ جات:
1۔ المرغینانی،الہدایۃ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء ، ج : 1 ، ص : 26
عینی، البنایۃ، کتاب الطہارۃ، فصل نواقض الوضوء، ج : 1، ص: 276
فان قاء بلغما فغیر ناقض عند ابی حنیفہ و محمد۔۔۔ولھما انہ لزج لا تتخللہ النجاسۃ(شرح العینی:ای لا یتداخلہ النجاسۃ و لا یدخل فی اجزائہ) و ما یتصل بہ قلیل والقلیل فی القیئ غیر ناقض(شرح العینی:لانہ لا یحتمل السیلان، والسیلان فی غیر السبیلین اقیم مقام الخروج و لم یوجدہ)۔
ترجمہ: اگر کسی نے بلغم کی قئے کردی تو یہ شیخین کے نزدیک ناقض وضو نہیں ہے۔ اور ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ چکناہٹ والی ہوتی ہے جس میں نجاست شامل نہیں ہوتی۔( شرح عینی: یعنی نجاست اس میں داخل نہیں ہوسکتی اور نہ اس کے اجزاء میں داخل ہوسکتی ہے۔)مرغینانی:اور جو اس کے ساتھ مل جائے گی وہ قلیل مقدار میں ہوگی اور قلیل مقدار قئے میں ناقض نہیں ہے۔ (شرح عینی: اس لیے کہ وہ قلیل مقدار سیلان کا احتمال نہیں رکھتی اور غیرِ سبیلین میں سیلان خروج کے قائم مقام ہے اور وہ یہاں نہیں ہے۔)
عبارت ہدایہ کی شرح کرتے ہوئے علامہ عینی علیہ الرحمہ نے وضاحت فرمادی کہ غیر سبیلین میں سیلان کی مقدار سے خروج کا اعتبار کیا جائے گا۔ لہٰذا جب اپنے اصلِ مصدر سے نکلنے والی قئے میں سیلان کا اعتبار کیا جائے گا تو خارجِ معدہ کے ساتھ خروج نجاست کے گمان کے ساتھ مطلق نقض وضو کا حکم لگانا درست نہ ہوگا۔لہٰذا نلکی کے ساتھ لگنے والی نجاست دیکھی جائے گی اگر تو وہ مقدارِ سیلان کو پہنچتی ہے تو وضو توڑ دے گی اور اگر نہیں پہنچتی تو وضو نہیں توڑے گی۔
حوالہ جات:
1۔ المرغینانی،الہدایۃ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء ، ج : 1 ، ص : 26
عینی، البنایۃ، کتاب الطہارۃ، فصل نواقض الوضوء، ج : 1، ص: 276