واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا موٹی جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 2

سوال

کیا موٹی جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

جواب

وضو کے ارکان اصل دھونا ہی ہے اور موزوں پر مسح کرنا خلاف قیاس ہے یعنی اس پر کسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا جرابوں وغیرہ کو موزوں پر قیاس تو نہیں کیا جائے گالیکن اگر جرابیں ایسی ہوں جو موزوں کی مثل ہوجائیں تو ان پر موزوں والا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ البنایہ میں بدرالدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
والمسح علی الجوربین فی ثلاثۃ اوجہ: فی وجہ یجوز بالاتفاق، وھو مااذا کانا ثخینین منعلین۔ وفی وجہ لایجوز بالاتفاق، وھو ان لا یکونا ثخینین ولا منعلین۔ وفی وجہ لایجوز عند ابی حنیفۃ ۔رحمہ اللہ۔ عنہ خلافاً لصاحبیہ وھو ان یکونا ثخینین غیر منعلین۔ (1)
ترجمہ: اور جرابوں پر مسح کرنے کی تین صورتیں ہیں: پہلی صورت میں بالاتفاق جائز ہے، اور وہ اس وقت ہے جب جرابیں موٹی ہوں اور اس کے نیچے چمڑا لگا ہو۔اور ایک صورت میں بالاتفاق ناجائز ہے اور یہ اس وقت ہے جب جرابیں موٹی نہ ہوں اور چمڑا بھی نہ لگا ہو۔اور ایک صورت میں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک ناجائز اور صاحبین کے نزدیک جائز ہے اور یہ اس وقت ہے جب جرابیں موٹی ہوں لیکن چمڑا نہ لگا ہو۔
پھر علامہ عینی ہی فرماتے ہیں:
وقولھما قول الجمہور من الصحابۃ: کعلی ابن ابی طالب، وابی مسعود البدری، وانس ابن مالک، والبراء ابن عازب، وابی امامۃ البلوی، و عمر، وابنہ، و سعدابن ابی وقاص، وسعید بن عمرو بن حریث، و سعید، و بلال، و عمار بن یاسر فھؤلاء الصحابۃ لا یعرف لھم مخالف۔ ومن التابعین: سعید بن المسیب، وعطاء، والنخعی، والاعمش، و سعید بن جبیر، و نافع مولی ابن عمر، وبہ قال الثوری، والحسن بن صالح، وابن المبارک، واسحق بن راھویۃ، وداود، واحمد، وکرہ ذلک مجاھد، وعمر بن دینار، الحسن بن مسلم، ومالک، والاوزاعی۔ (2)
ترجمہ: اور صاحبین کا قول ہی جمہور کا قول ہے حضرات صحابہ سے: سیدنا علی بن ابی طالب، ابو مسعود البدری، انس بن مالک، براء ابن عازب، ابو امامہ بلوی، عمر بن خطاب، عبداللہ بن عمر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن عمرو بن حریث، سعید، بلال اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنھم ہیں۔ یہ وہ صحابہ ہیں کہ جن کے بارے کسی طرح کی مخالفت نہیں ہے۔ اور حضرات تابعین میں سے سیدنا سعید بن المسیب،عطاءبن ابی رباح،ابراہیم نخعی، اعمش، سعید بن جبیر، اور نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام علیہ الرحمہ شامل ہیں۔ اور یہی موقف حضرت سفیان ثوری، حسن بن صالح، عبداللہ بن مبارک، اسحق بن راھویۃ، داود ظاہری اور احمد بن حنبل علیہم الرحمہ کا ہے۔ اور اسے حضرت مجاھد، عمر بن دینار، حسن بن مسلم، امام مالک اور امام اوزاعی نے مکروہ قرار دیا ہے۔
علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمہ کی اس تفصیل سے واضح ہوا کہ ایسی جرابیں جوموٹی ہوں ان پر مسح کرنا موزوں پر مسح کرنے کے مترادف ہوگا۔اور امام ابن ھمام الحنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
وعنہ انہ رجع الی قولھما وعلیہ الفتویٰ۔ (3)
ترجمہ: اور امام ابوحنیفہ سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے صاحبین کے قول کی طرف رجوع کرلیا تھا اور صاحبین کے موقف پر ہی فتویٰ ہے۔
اور علامہ کاسانی البدائع الصنائع میں ٖفرماتے ہیں:
وروی عن ابی حنیفہ انہ رجع الی قولھما فی آخر عمرہ، وذلک انہ مسح علی جوربیہ فی مرضہ، ثم قال لعوادہ: "فعلت ما کنت امنع الناس عنہ" فاستدلوا بہ علی رجوعہ۔ (4)
ترجمہ: امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی آٓخری عمر میں صاحبین کے قول پر رجوع کرلیا تھا۔ اور یہ رجوع اس طرح تھا کہ انہوں نے اپنے مرض میں جرابوں پر مسح کرلیا تھا۔اور اپنے عیادت کرنے والوں سے فرماتے کہ "میں نے وہ عمل کیا ہے جس سے لوگوں کو روکتا تھا"(یعنی اب اپنے موقف سے رجوع کررہا ہوں)، اس سے ان کے رجوع کرنے پر استدلال کرلو۔
اس سے خوب واضح ہوگیا کہ موٹی جرابوں پرمسح کرنا جائز ہے۔کہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ اس موقف کی مخالفت میں تھے ان کا رجوع بھی ثابت ہوگیا۔اس موقف پر مستدل حدیث یہ ہے:
توضأ النبیﷺ ومسح علی الجوربین۔ (5)
ترجمہ: حضور نبی کریمﷺ نے وضو فرمایا اور جرابوں پر مسح کیا۔
اس پر مزید دلائل اور شواہد کےلیے مندرجہ ذیل کتب سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔شرح معانی الآثار ،کنزالدقائق ، تبیین الحقائق ، البحرالرائق ، المحیط البرہانی کے علاوہ دیگر کتب فقہ بھی اسی موقف کی تائید کرتی ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ عینی، البنایۃ، کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، ج: 1 ،ص:608
2۔ عینی، البنایۃ، کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، ج: 1 ،ص:608
3۔ ابن ھمام، فتح القدیر، کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، ج: 1 ،ص:158
4۔ علاؤ الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی، تاریخ پیدائش: محمد بن احمد سمرقندی سے آپ نے فقہ پڑھی اور سمرقندی نے آپ کا اپنی بیٹی سے نکاح کردیا جو کہ فقیہہ وعالمہ تھیں۔آپ مدرسہ حلاویہ میں مدرس رہے۔ ضیاءالدین الحنفی کہتے ہیں کہ آپ کی وفات کے وقت میں آپ کے پاس موجود تھا آپ نے سورہ ابراہیم کی تلاوت شروع کردی آپ نے آخری آیت یہ تلاوت کی: "یثبت الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرۃ۔" زبان سے " و فی الآخرۃ" کلمات ادا ہوئے اور سفر آخرت کو سدھار گئے۔تاریخ وفات: 587ھ۔ آپ کی البدائع مشہور زمانہ اور معتمد و معتبر کتاب ابن عابدین کہتے ہیں: "یہ ایسی بلند پایہ کتاب ہے کہ جس کی مثل ہم اپنی کتب میں نہیں دیکھتے"۔ اس کے علاوہ آپ نے "السلطان المبین فی اصول الدین" بھی لکھی۔ البدائع الصنائع، کتاب الطھارۃ، باب مسح علی الخفین، ج: 1 ،ص:46
5۔ الترمذی، الجامع ، کتاب الطھارۃ، باب المسح علی الجوربین،ج:1،ص:167
ابو حاتم حافظ محمد بن حبان احمد ابن حبان التمیمی البستی القاضی، تاریخ پیدائش:270ھ، آپ کے شاگرد حاکم صاحب مستدرک فرماتے ہیں: کہ ابن حبان فقہ، لغت، حدیث وعظ، اورع علوم عقلیہ میں علم کا پیکر تھے۔ ابوسعید ادریسی کہتے ہیں: آپ طب، نجوم اور فنون علم کے بھی ماہر تھے۔ علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ وہ طب، نجوم، کلام اور فقہ کے عارف تھے، معرفت حدیث میں بنیاد ہیں۔ آپ کی تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اسماء الرجال، جرح و تعدیل، تاریخ، سیر، مناقب، اخلاق وآداب، جیسے موضوعات پر 60سے زائد کتب وہ ہیں جن سے اصحاب سیر کو واقفیت ہوسکی اس کے علاوہ کثیر ہیں جو کہ موجود نہیں۔ تاریخ وفات 354ھ۔الصحیح، کتاب الطھارۃ، باب المسح علی الخفین و غیرھما، ذکر الاباحۃ للمرء بالمسح علی الجوربین، ج: 2، ص: 314، رقم الحدیث:1335

مزید فتاویٰ جات

کیا زِپ والے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟ کیا کریم، سرخی اور پاؤڈر لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟ کیا معدہ تک نلکی (ٹیوب) پہنچانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا ٹرین یا جہاز میں پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا جا سکتا ہے، اگر ذریعۂ تیمم میسر...