واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا ناخن پالش لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 25

جواب

یہ بات سابقہ وضاحت میں گزر چکی ہے کہ جو چیز پانی کو جلد تک پہنچانے میں مانع ہوگی اس چیز کے لگے ہونے کی حالت میں طہارت نہیں ہے۔ علامہ ابن
عابدین شامی فرماتے ہیں:
ھو اسالۃ الماء مع التقاطر۔(1)
ترجمہ: کہ غسل پانی کا (جسم تک) ایسے پہنچانا ہے کہ پانی کے قطرے ٹپکیں۔
علامہ حصکفی علیہ الرحمہ غیر موانع ِ وضو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
بخلاف نحو عجین۔ (2)
ترجمہ: گوندھے ہوئے آٹے کی مثل اشیاء کا حکم مختلف ہے۔
اس کی تشریح میں علامہ شامی فرماتے ہیں:
ممضوغ متلبد۔۔۔واستظہر المنع لان فیہ لزوجۃ و صلابۃ تمنع نفوذ الماء۔ (3)
ترجمہ: جو چیز چبانے کے قابل ہو(یعنی پانی کی مثل نہ) اور ٹھوس ہو۔ کہ وہ وضو کےلئے مانع ہے۔(گوندھے ہوئے آٹھے کے متعلق فرمایا)اس میں منع ظاہر ہے کیونکہ اس میں چکناہٹ اور ٹھوس پن ہوتا ہے جو کہ پانی کو پہنچنے میں مانع ہے۔
تو ناخن پالش اسی حکم میں ہےاس لیےناخن پالش لگے ہونے کی صورت میں وضو و غسل نہیں ہوگا کیونکہ یہ ٹھوس ہے اور پانی کی مثل اشیاء میں نہیں ہے۔ اور یہ پانی کو جلد تک پہنچنے میں مانع ہے اور جب پانی جلد تک نہیں پہنچے گا تو وضو و غسل بھی نہیں ہوں گے۔
حوالہ جات:
1۔ شامی ، رد المحتار، کتاب الہارۃ ، مطلب فی ابحاث الغسل ، ج 1 : ص : 288
2۔ حصکفی ، در المختار ، کتاب الطہارۃ ، فی بیان الغسل ، ج 1 : ص : 288
3۔ شامی ، رد المحتار، کتاب الطہارۃ ، مطلب فی ابحاث الغسل ، ج 1 : ص : 288

اصل سوال

کیا ناخن پالش لگے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل ہو جائے گا؟

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟