واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا نمازِ جنازہ کے بعد ختم پڑھنا اور اس کا ثواب میت کو ایصال کرنا جائز ہے؟

جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: جنازہ مشاہدات: 24

جواب

بعض علاقوں میں نمازِ جنازہ پڑھنے کے فوراً بعد ختم پڑھا جاتا ہے، پھر دعا کرائی جاتی ہے۔ اور اس دوران میت بھی وہیں موجود رہتی ہے یا بعض اوقات میت کو قبرستان میں بھیج دیا جاتا ہے۔ جو لوگ چاہیں میت کے ساتھ چلے جائیں جوکہ بہت کم ہوتے ہیں اور باقی لوگ جنازہ والی جگہ بیٹھ کر ختم پڑھنے لگتے ہیں۔ اور دوران ختم پیسے بھی رکھے جاتے ہیں کہ بعد از دعا وہ رقم جنازہ پڑھانے اور ختم پڑھنے والے کو دے دی جاتی ہے۔
اس مسئلہ کی توضیح سے پہلے مندرجہ ذیل اصولی وضاحت ضروری ہے۔
کہ اسلامی احکام کی بنیادی تقسیم کی رو سے بعض کام وہ ہیں جولازم ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا کرنا اچھا ہے مگر وہ لازم نہیں ہیں۔ یعنی فرائض وواجبات لوازم میں آتے ہیں اور سنن، مستحبات ونوافل لوازم میں تو نہیں مگر ان کا کرنا اچھا ہے اور یہ شریعت کا حسن اور کمال ہوتے ہیں۔ اس حوالہ سے شرعی طور پر لازم قراردیا جاتاہے کہ فرض کو اس کے درجہ سے نیچے نہ گرایا جائے اور مستحب کو اس کےدرجہ سے بلند نہ کیا جائے۔ اور اس پر رسول اللہﷺ نے اپنی زندگی زور دیا ہے جس کی مثالیں مندرجہ ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔ اور مستحبات ونوافل اتنی مقدار میں کرنا مستحسن ہوتاہے جتنی کہ شریعت اجازت دے۔ جس حد تک شرعی اجازت ہے وہاں تک اس مستحب پر اپنے دین میں حسن اور کمال پیدا کرنے کےلیے عمل کیا جائے۔ اس حوالہ سے رسول اللہﷺ کی زندگی سے کثیر مثالیں حاصل کی جاسکتی ہیں مگر توضیح کےلیے دو پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لولا ان اشق علی امتی لامرتہم بالسواک مع کل صلوۃ۔(1)
ترجمہ: اگر میں اپنی امت پر مشکل نہ دیکھتا تو انہیں ضرور ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔
اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات حضور نبی کریمﷺ نمازِ عشاء کے بعد تراویح کی نماز کےلیے مسجد میں تشریف لائے تو لوگ بھی آپﷺ کے ساتھ شریک ہوگئے۔ جب دن ہوا تو لوگوں نے دوسروں کو بتایا تو آئندہ رات لوگ پہلی رات سے بھی بڑھ گئے۔ دن کو لوگوں نے لوگوں کو بتایا تو تیسری رات لوگوں کی تعداد دوسری رات سے بھی بڑھ گئی۔ پھر آئندہ دن سب لوگوں میں یہ بات ہوگئی اور چوتھی رات اتنے لوگ جمع ہوگئے کہ مسجد میں سما نہ سکے۔ مگر حضور نبی کریمﷺ اس رات مسجد میں تشریف نہیں لائے، صبح جب نماز فجر کےلیے مسجد میں تشریف لائے تو فرمایا:
اما بعد فانہ لم یخف علی مکانکم، ولکنی خشیت ان تفرض علیکم فتعجزوا عنہ۔ (2)
ترجمہ: رات کو تمہارا مسجد میں آنا مجھ سے مخفی نہیں تھا(مجھے علم تھا کہ تم لوگ مسجد میں بیٹھے ہو اور میں اس لیے نہیں آیا) کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کردی جائے اور پھر تم اس کو ادا کرنے سے عاجز ہوجاؤ گے۔
شریعت کا مزاج یہ ہے کہ جو لازم نہیں اسے لازم نہ کیا جائے ورنہ مستحب کو لازم قرار دینے والا غیر شارع فرد مستحق عقاب ٹھہرتا ہے۔ یہ تو بات ہے غیر لازم کو لازم قراردینا۔ اور مستحبات کو مستحب جانتے ہوئے اس پر عمل کرنے میں بھی اعتدال اور اقتصاد کی تعلیم دی گئی ہے۔ خصوصاً جو اجتماعی معاملہ ہو جیسے ساری رات کے قیام سے حضور نبی کریمﷺ نے مگر پھر بھی رات کے ایک بڑے حصے تک آپﷺ انفراداًخود بھی قیام فرماتے اورلوگوں کو تلقین بھی فرماتے۔ اور یہ آپﷺ کا معمول ساری زندگی جاری رہا مگر جب اجتماعی درپیش ہواہے تو آپﷺ نے تیسری رات کے بعد نوافل کو ترک کردیا۔ چاہے خود گھر میں اکیلے پڑھتے رہے ہوں گے اور یقیناً ایسا ہی ہوگا۔لہٰذا اجتماعی معاملات میں عوام کو خصوصاً ایسی مشکلات سے بچایا جائے جن کا شریعت نے مکلف نہیں بنایا۔
شریعت میں نماز جنازہ کا جو مسنون طریقہ ہے اسی کو ہی اختیار کیا جائے اور اس پر اپنی طرف سے کچھ زائد کرنے سے پرہیز کیا جائے۔اور خصوصاً نماز جنازہ جیسا موقع کہ جب ہر شخص واپس لوٹنا چاہتا ہے۔ ختم، قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب جائز ضرور ہے لیکن اس کا مطلب شریعت کو مشکل بنانا نہیں ہے۔ ایک رکوع کا پڑھ لینا بھی اچھا ہے، اور مروجہ ختم کو مکمل پڑھ لینا بھی اچھا ٹھہرا، تو ایسے پھر سارا قرآن پڑھنا تو اس سے زائد اچھا عمل ہوا۔اگر ہر وقت میں ہر اچھا کام کرنے ہی دین کو تقویت پہنچے گی تو پھرکتنا ہی اچھا ہو کہ میت کو سامنے رکھیں اور الحمد سے والناس تک سارے قرآن کی تلاوت کرنے کے بعد دفنانے کا انتظام کیا جائے اور لوگ بھی اس وقت تک بیٹھے ہی رہیں۔
اور جب حضور نبی کریمﷺ کا فرمان ہو میت کو دفنانے میں جلدی کرو۔ (3)
اور یہ فرمان کہ جنازہ پڑھنے والے کےلیے ایک قیراط ثواب ہے اور میت کو دفنانے تک اس کے ساتھ جانے والے کےلیے دو قیراط ثواب ہے۔
تو لازم یہی ہے کہ بغیر کسی تاخیر کے فوراً بعد از نماز جنازہ میت کو قبرستان کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دو قیراط ثواب حاصل کیا جائے۔ حضور نبی کریمﷺ میت کے ساتھ جانے کی ترغیب دیتے ہیں اور خود بھی معمول ساری زندگی کےلیے یہی رہا کہ میت کے ساتھ قبر تک تشریف لے گئے۔اور یہاں میت کو بھیج کر ختم پڑھنے بیٹھ جانا سنت کے خلاف عمل ہے لہذا اس سے احتراز کرنا بہتر ہے۔ اور خصوصاً اس موقع پر پیسے دیے جانا تو زیادہ برا اور خلاف سنت عمل ہے اس سے اجتناب میں خیر اور فلاح ہے۔

حوالہ

1 ۔ بخاری، الجامع الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ، ج: 1، ص:283 ،رقم الحدیث:887
2۔ بخاری، الجامع الصحیح، کتاب صلوۃ التراویح، باب فضل من قام رمضان، ج:2 ،ص: 61،رقم الحدیث:2012
3۔ نسائی، السنن الصحیح، کتاب الجنائز، باب السرعۃ بالجنازۃ، ج: 1،ص: 270
4۔ نسائی، السنن ، کتاب الجنائز، باب فضل من تبع جنازتہ،ج:1،ص:275

اصل سوال

کیا نمازِ جنازہ کے بعد ختم پڑھنا اور اس کا ثواب میت کو ایصال کرنا جائز ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟ کیا میت کو غسل دینے والے شخص پر خود غسل کرنا واجب ہے؟ کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟ کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟ کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟