نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کی بخشش اور سفر برزخ وآخرت کی آسانی کےلیے دعا کرنا مستحب ومستحسن طریقہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سمعت رسول اللہﷺ یقول: اذا صلیتم علی المیت فاخلصوا لہ الدعاء۔ (1)
ترجمہ: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب میت پر نماز پڑھ چکو تو اس کےلیے مخلصانہ دعا کرو۔
اس حدیث سے واضح ہوا کہ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد دعا کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ "فاخلصوا" میں "فاء" کی موجودگی نے ہمارے موقف کو خوب واضح کردیا، کہ "فاء" تعقیب کےلیے آتی ہے۔ یعنی ایک کام کے مکمل ہوجانے کے فوراً بعد۔ لہٰذا حکم یہ ہےکہ "جب نماز ہوجائے تو فوراً بعد دعا کرلو"، ایک تو یہ بات واضح ہوئی کہ یہ حکم جنازہ کے اندر والی دعا کے علاوہ ہے کیونکہ یہ اس کے بعد کا حکم ہے، اور دوسری یہ کہ بعد میں کسی اور وقت کےلیے بھی نہیں بلکہ نماز کے متصلاً بعد دعا کرنے کا حکم ہے۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صلی رسول اللہﷺ علی جنازۃ، فحفظت من دعائہ۔۔۔ (2)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی، اور میں نے آپﷺ سے دعا(سن کر) یاد کرلی۔
جنازہ میں تو بلند آواز سے دعا نہیں کی جاتی تو حضرت عوف نے کیسے سنا اور یاد کیا؟ امام نووی علیہ الرحمہ اس کی وضاحت میں فرماتے ہیں:
وحینئذ یتأول ھذا الحدیث علی ان قولہ: "حفظت من دعائہ" ای: علمنیہ بعد الصلوۃ فحفظتہ۔ (3)
ترجمہ: یہاں پر اس حدیث کی تأویل کی جائے گی کہ راوی کی بات "میں نے رسول اللہﷺ س(سن کر) یاد کرلیا" سے مراد ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے نماز کے بعد اس کی تعلیم دی اور میں نے اسے یاد کرلیا۔
جب یہ تاویل جائز ہے تو یہ بھی جائز ہے کہ آپﷺ نے بعد نماز جنازہ میت پر ہی یہ دعا کی ہو۔ اس تاویل کےلیے قرینہ صحابی رسولﷺ کا قول ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے دعا کی تو اس پر وہ اپنے رشک کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حتی تمنیت ان اکون انا ذلک المیت۔ (4)
ترجمہ: یہاں تک کہ مجھے تمنا ہونے لگی کہ اس میت کی جگہ میں ہوتا۔
صحابی کا یہ قول واضح کرتا ہے کہ وہ دعا میت پر کی گئی الگ طور نہیں سکھائی گئی۔
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک بندے کی نماز جنازہ پڑھائی میں نے سنا آپﷺ نے (اللہ سے دعا کرتے ہوئے )عرض کیا:
اللھم ان فلان ابن فلان فی ذمتک فقہ فتنہ القبر۔(5)
ترجمہ: اے اللہ یہ فلاں بن فلاں تیرے ذمہ کرم میں ہے اسے عذاب قبر سے بچا لے۔
رسول اللہﷺ کا نماز میں کسی کا نام نہیں لینا معمول نہیں تھا، اور نہ ہی کسی روایت سے صراحتاً ثابت ہے کہ آپﷺ نے کسی کا نماز میں نام لیا ہو، چاہے رکوع وسجدہ والی ہو یا علاوہ اس کے، یہاں نام لے کر دعا کرنا واضح کرتاہے کہ یہ دعا جنازہ کے اندر والی نہیں بلکہ جنازہ کے بعد کی گئی ہے۔حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کان النبیﷺ اذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال استغفروا لاخیکم وسلوا لہ بالتثبیت فانہ الآن یسأل۔ (6)
ترجمہ: رسول اللہﷺ جب میت کو دفن کرنے کے بعد فارغ ہوجاتے تو آپ وہاں ٹھہرتے اور فرماتے: اپنے بھائی کےلیے بخشش کی دعا کرو اور اس کےلیے ثابت قدمی کی دعا کرو کہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا۔
الغرض حاصل یہ کہ نماز جنازہ کے متصلاًبعد اور قبر پر یا اس کے بعد بھی میت کےلیے دعا کرنے میں کوئی بھی کراہت، حرج یا ممانعت نہیں ہے۔
فتویٰ
کیا نمازِ جنازہ کے بعد میت کے لیے دعا کرنا مستحسن ہے؟
جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ ابوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمیت، ص:361
2۔ مسلم،الصحیح،کتاب الجنائز،باب الدعاء للمیت فی الصلوۃ،ج: 3،ص:312
3۔ نووی،شرح المسلم،کتاب الجنائز،باب الدعاء للمیت،ج:3، ص:312
4۔ مسلم،الصحیح،کتاب الجنائز،باب الدعاء للمیت فی الصلوۃ،ج: 3،ص:312
5۔ ابوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمیت، ص:361
6۔ ابوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب الاستغفار عند القبر، ص:363
2۔ مسلم،الصحیح،کتاب الجنائز،باب الدعاء للمیت فی الصلوۃ،ج: 3،ص:312
3۔ نووی،شرح المسلم،کتاب الجنائز،باب الدعاء للمیت،ج:3، ص:312
4۔ مسلم،الصحیح،کتاب الجنائز،باب الدعاء للمیت فی الصلوۃ،ج: 3،ص:312
5۔ ابوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمیت، ص:361
6۔ ابوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب الاستغفار عند القبر، ص:363
اصل سوال
کیا نمازِ جنازہ کے بعد میت کے لیے دعا کرنا مستحسن ہے؟