ہمارے زمانہ میں ایک طبقہ ایسا ہے کہ جو جنازہ پانچ تکبیرات سے پڑھتاہے۔ جبکہ سنت طریقہ کے مطابق جنازہ چار فرض تکبیرات پر مشتمل ہے۔صحیح بخاری کی روایت ہے:
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہﷺ نعی النجاشی فی الیوم الذی مات فیہ، وخرج بھم الی المصلی، فصف بھم وکبر علیہ اربع تکبیرات۔ (1)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسول اللہﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر سنائی جس دن ان پر موت آئی، اور صحابہ کو لے جنازگاہ کی طرف تشریف لائے، اور صحابہ کی صفیں بنوائیں اور اس پر(جنازہ میں پڑھا اور) چار تکبیرات پڑھیں۔
اور حضرت انس بن مالک وحضرت جابر رضی اللہ عنہما سے بھی امام بخاری علیہ الرحمہ نے یہی روایت کیا ہے۔ (2)
امام شعبی سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی روایت کیا ہے۔ (3)
دیگر اقوال بھی مروی ہیں مگر امت کا اجماع چار تکبیرات پر ہے۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
کان التکبیر اربعا وخمسا، فجمع عمر الناس علی اربع۔(4)
ترجمہ: جنازے کی تکبیرات چار اور پانچ دونوں رائج تھیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چار تکبیرات پر لوگوں کا اجماع کرالیا (یا لوگوں کو جمع کردیا)۔
اور ایسا ہی حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔(5) اس مسئلہ کی تفصیل کےلیے فتح الباری شرح الصحیح للبخاری کا مندرجہ بالا حوالہ سے تفصیلاً مطالعہ کرلینا مفید ہے۔اور مندرجہ ذیل حوالہ جات کی طرف رجوع طالبان علم کےلیے مفیدومفیض ہے:
امام طحاوی علیہ الرحمہ کی شرح معانی الآثار۔ (6)
علامہ عینی علیہ الرحمہ کی عمدۃ القاری شرح البخاری۔ (7)
امام نووی کی شرح المسلم۔ (8)
فتویٰ
کیا نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہنا ضروری ہے؟
نماز کے موضوع پر شرعی رہنمائی
جواب
حوالہ
1 ۔ بخاری، الصحیح،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ اربع، ج:1،ص:409
مسلم، الصحیح، کتاب الجنائز، باب فی التکبیر علی الجنازۃ، ج: 3،ص:302
ترمذی، الصحیح، کتاب الجنائز، باب التکبیرعلی الجنازۃ، ج: 3،ص:333
2۔ بخاری، الصحیح،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ اربع، ج:1،ص:409
مسلم، الصحیح، کتاب الجنائز، باب فی التکبیر علی الجنازۃ، ج: 3،ص:303
3۔ بخاری، الصحیح،کتاب الجنائز،باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:1،ص:405
4۔ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی، تاریخ پیدائش:773 ،تاریخ وفات:852 ،فتح الباری شرح البخاری،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ اربع، ج:3،ص:241
5۔ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی، تاریخ پیدائش:773 ،تاریخ وفات:852 ،فتح الباری شرح البخاری،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ اربع، ج:3،ص:241
6۔ طحاوی، شرح معانی الآثار، کتاب الجنائز، باب التکبیر علی جنائز کم ھو، ج:1 ،ص:287
7۔ عینی،عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:8 ،ص:168
8۔ نووی،شرح المسلم،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ،ج:3، ص:302
مسلم، الصحیح، کتاب الجنائز، باب فی التکبیر علی الجنازۃ، ج: 3،ص:302
ترمذی، الصحیح، کتاب الجنائز، باب التکبیرعلی الجنازۃ، ج: 3،ص:333
2۔ بخاری، الصحیح،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ اربع، ج:1،ص:409
مسلم، الصحیح، کتاب الجنائز، باب فی التکبیر علی الجنازۃ، ج: 3،ص:303
3۔ بخاری، الصحیح،کتاب الجنائز،باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:1،ص:405
4۔ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی، تاریخ پیدائش:773 ،تاریخ وفات:852 ،فتح الباری شرح البخاری،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ اربع، ج:3،ص:241
5۔ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی، تاریخ پیدائش:773 ،تاریخ وفات:852 ،فتح الباری شرح البخاری،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ اربع، ج:3،ص:241
6۔ طحاوی، شرح معانی الآثار، کتاب الجنائز، باب التکبیر علی جنائز کم ھو، ج:1 ،ص:287
7۔ عینی،عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:8 ،ص:168
8۔ نووی،شرح المسلم،کتاب الجنائز،باب التکبیر علی الجنازۃ،ج:3، ص:302
اصل سوال
کیا نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہنا ضروری ہے؟