واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا غائبانہ نمازِ جنازہ شرعاً مشروع ہے؟

جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: جنازہ مشاہدات: 17

جواب

نماز جنازہ حاضر میت پر مشروع ہے نہ کہ غائب پر، غائبانہ جنازہ درست نہیں ہے۔ اس کا ثبوت کہیں سے بھی حاصل نہیں ہے۔ غائبانہ جنازہ کے ثبوت کےلیے ایک ہی روایت پیش کی جاتی ہے۔ اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ ہے:
نعی النبیﷺ الی اصحابہ النجاشی، ثم تقدم فصفوا خلفہ، فکبر اربعا۔ (1)
ترجمہ: حضور نبی کریمﷺ نے اپنے صحابی نجاشی کی موت کی خبر دی، پھرآپﷺ (جنازگاہ میں)تشریف لائے اور لوگوں نے آپﷺ کے پیچھے صفیں بنالیں، آپﷺ نے (اس جنازہ میں) چار تکبیریں کہیں۔
درج بالا وہ حدیث ہے کہ جس سے غائبانہ جنازہ کے جواز پر استدلال کیا جاتاہے۔ اس کا جواب علماءِ احناف نے بیان کیا جن میں علامہ بدرالدین عینی کی عبارت درج کیا جاتی ہے:
وھو ان النبیﷺ رفع لہ سریرہ فرآہ، فتکون الصلوۃ علیہ کمیت رآہ الامام ولا یراہ الماموم۔ (2)
ترجمہ: (اس جنازہ پر نماز پڑھنے کی)وجہ یہ ہے کہ نجاشی کی میت والا تخت حضور نبی کریمﷺ کے سامنے کردیا گیا، اور ایسے ہی ہوگیا کہ جیسے امام تو میت کو رہا ہوتا ہے مگر مقتدی (اکثر )نہیں دیکھ رہے ہوتے(جیسے وہ جائز ہوتا ہے ایسے ہی یہ تھا)۔
اس پر وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کو بطور دلیل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ان اخاکم النجاشی توفی فقوموا فصلوا علیہ، فقام رسول اللہﷺ فصفوا خلفہ، فکبر اربعا، وھم لایظنون الا ان جنازتہ بین یدیہ۔ (3)
ترجمہ: تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے اس کے لیے کھڑے ہوجاؤ اور اس پر نماز ادا کرو، لہٰذا رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کے پیچھے صفیں بنالیں، آپﷺ نے چار تکبیرات سے جنازہ پڑھایا، اور صحابہ کرام کا صرف یہی گمان تھا کہ میت حضور نبی کریمﷺ کے سامنے موجودہے۔
مندرجہ بالا اور مندرجہ ذیل روایات ابن حبان سے روایت کرتے ہیں صحابہ کرام فرماتے ہیں:
فصلینا خلفہ، ونحن لا نری الا الجنازہ قدامہ۔ (4)
ترجمہ: ہم نے رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو ہمارا یہی خیال تھایا ہم نے تو صرف یہی دیکھا کہ جنازہ حضور نبی کریمﷺ کے سامنے موجود ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کشف للنبیﷺ عن سریر النجاشی حتی رآہ وصلی علیہ۔(5)
ترجمہ: رسول اللہﷺ کےلیے نجاشی کی میت والی چارپائی کے درمیان موجود تمام رکاوٹیں ہٹادی گئی تھیں، آپﷺ اسے دیکھ رہے تھے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔
اگر غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت ہوتی تو رسول اللہﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر پڑھا کرتے۔ کہ صحابہ کرام کے فوت ہونے اور شہید ہونے کی خبریں حضور نبی کریمﷺ کو ملتی رہیں مگر آپﷺنے کسی پر بھی غائبانہ نمازجنازہ نہیں پڑھی۔ حتیٰ کہ جنگ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر طیار اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادتوں کے حالات لمحہ بہ لمحہ بیان بھی فرماتے رہے مگر ان پر غائبانہ نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
کنا مع رسول اللہﷺبتبوک فنزل جبریل علیہ السلام، فقال یا رسول اللہﷺ ان معاویۃ بن معاویۃ المزنی مات بالمدینۃ، اتحب ان تطوی لک الارض فتصلی علیہ؟ قال: نعم، فضرب بجناحیہ علی الارض ورفع لہ سریرہ، فصلی علیہ فخلفہ صفان من الملٓئکۃ فی کل صف سبعون الف ملک ثم رجع۔(6)
ترجمہ: تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے، اور فرمایا: یارسول اللہﷺ معاویہ بن معاویہ المزنی مدینہ میں انتقال کرگئے۔ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کے لیے زمین کو لپیٹ دیاجائے کہ آپ اس پر نماز ادا فرمالیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہاں! تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اپنا پَر زمیں پر مارا اور میت کا تختہ رسول اللہﷺ کے سامنے بلند کردیا۔ تو آپﷺ نے اس پر نماز پڑھی، آپﷺ کے پیچھے دوصفیں فرشتوں کی تھیں اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے، کہ جنازہ پڑھ کر واپس چلے گئے۔
اس میں تو صراحت مل گئی کہ خود حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور حکم باری تعالیٰ سےمخصوص اسی جنازہ کےلیے زمین کو سمیٹا اورجنازہ پڑھوایا۔`

حوالہ

1 ۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، رقم:1318
2۔ عینی،عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:8 ،ص:172
3۔ عینی،عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:8 ،ص:172
4۔ عینی،عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:8 ،ص:172
5۔ عینی،عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:8 ،ص:172
6۔ عینی،عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف علی الجنازۃ، ج:8 ،ص:172

اصل سوال

کیا غائبانہ نمازِ جنازہ شرعاً مشروع ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟ کیا میت کو غسل دینے والے شخص پر خود غسل کرنا واجب ہے؟ کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟ کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟ کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟