واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا قبر پر جانا جائز، مستحسن اور مسنون ہے؟

جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: جنازہ مشاہدات: 16

جواب

قبر پر جانا، ٹھہرنا، دعا کرنا، ختم پڑھنا، اور کوئی شاخ وغیرہ قبرپر رکھنا سب عمل جائز، مستحسن اور مسنون ہیں۔ ان اعمال میں کسی طرح کی کوئی کراہت، حرج یا ممانعت ثابت نہیں ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کے عمل مبارک سے کئی روایات میں ثابت ہے، اور خود قولی احادیث سے بھی، الغرض قول، عمل اور تقریر تینوں اقسام کی روایات ثابت ہیں۔حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
قد کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور، فقد اذن لمحمد(ﷺ) فی زیارۃ قبر امہ، فزوروھا، فانھا تذکر الآخرۃ۔ (1)
ترجمہ: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب محمد(ﷺ) کو اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت مل گئی ہے، تو تم زیارت کیا کرو، کہ یہ عمل آخرت کی یاد دلاتا ہے۔
حضور نبی کریمﷺ نے خود قبر جانے سے منع فرمایا تھا، اور خود ہی اجازت دے دی ہے۔ لہٰذا اب کسی طرح ممانعت نہیں ہے۔ اگر کوئی ممانعت والی حدیث ملتی ہے یا کہیں سے کوئی مفہوم ملتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ ممانعت پہلے تھی اور اجازت بعد میں ہے، کیونکہ یہ وضاحت حضور نبی کریمﷺ نے خود فرمادی ہے۔ لہٰذا اس حدیث نے ممانعت کے حکم کو منسوخ کردیا، اب اگر کسی کو ممانعت کا مفہوم کہیں سے بھی میسر آئے تو اس کےلیے ناسخ یہ حدیث مبارکہ ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ آپﷺ نے اجازت دے دی بلکہ خود حضور نبی کریمﷺ کے عمل سے قبروں پر جانا بھی ثابت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
زار النبیﷺ قبر امہ فبکی وابکی ما حولہ۔ (2)
ترجمہ: رسول اللہﷺ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لائے اور رودئیے، اور جو لوگ آپﷺ کے ساتھ تھے انہیں بھی رلادیا۔
اور حضور نبی کریمﷺ کے زمانہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی جاتے رہے۔ اس طرح قبروں پر جانے کی اجازت حدیث کی تینوں اقسام قولی، فعلی اور تقریری سے ثابت شدہ ہوئی۔ اور یہ اجازت حد تواتر و شہرت کو اس طرح بھی پہنچ چکی ہے کہ ہر محدث نے اپنی اپنی کتاب میں زیارۃ القبور کے ابواب بنائے ہیں۔ جس سے واضح ہے کہ اس مسئلہ میں زمانۂ نبوت سے آج تک امت کے کسی معتبر طبقہ نے انکار نہیں کیا۔
لہٰذا قبروں پر جانا نہ صرف جائز ہے بلکہ حضور نبی کریمﷺ کی سنت مطہرہ ہے اور ذکر آخرت کےلیے زیارت قبور مستحسن مستحب ہے۔ اور امت میں اکثر اولیاء اللہ کا معمول رہا کہ عبادت وریاضت کےلیے قبرستان کا انتخاب کرتے، اس کی بنیاد بھی یہی فرمان رسول اللہﷺ ہے۔

حوالہ

1 ۔ ترمذی، السنن، کتاب الجنائز، باب الرخصۃ فی زیارۃ القبور،رقم:1054
مسلم، الصحیح، کتاب الجنائز، باب استئذان النبیﷺ ربہ فی زیارۃ قبر امہ، رقم الحدیث:2257-8
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الجنائز، باب استئذان النبیﷺ ربہ فی زیارۃ قبر امہ، رقم الحدیث:2257
ابوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب فی زیارۃ القبور، رقم:3234

اصل سوال

کیا قبر پر جانا جائز، مستحسن اور مسنون ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟ کیا میت کو غسل دینے والے شخص پر خود غسل کرنا واجب ہے؟ کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟ کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟ کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟