واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا قبر پر قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا مستحسن ہے؟

جنازہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-08-19 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: جنازہ مشاہدات: 22

جواب

قبر پر قرآن پاک کی تلاوت اس غرض سے کرنا کہ میت کو اس کا فیض منتقل ہو، اس کے سبب مغفرت اور رحمت کے دروازے کھول دیے جائیں۔ علماء اہلسنت کے نزدیک جائز، مستحسن اور مسنون عمل ہے۔ جس کی توضیح درج ذیل ہے۔
سابقہ صفحات میں حضرت معقل بن یسار سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے مردوں پر تلاوت یٰس کا حکم فرمایا۔ جبکہ اس میں کسی طرح کی تخصیص نہیں ہے کہ قبروں میں دفنانے سے پہلے، جنازہ سے پہلے، جنازہ کے بعد، قبرستان جاتے ہوئے یا دفن کے بعد، ان صورتوں میں کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں فرمایا۔ عام حکم ہے تو اسے عام ہی رہنے دیا جائے گا، کہ فوت ہوتے وقت، جنازہ سے پہلے اور بعد، دفن سے پہلے اور بعد، اور قبر پر بھی تلاوت نہ صرف جائز ہے بلکہ مسنون ومستحسن ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث نے اس کی تائید کردی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:
من دخل المقابر فقرأ: سورۃ یٰس خفف اللہ عنھم یومئذ۔(1)
ترجمہ: جو شخص قبرستان میں داخل ہوا اور اس نے سورہ یس پڑھ دی تو اللہ اس دن ان پر(عذاب کو) ہلکا کردے گا۔
اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
من زار قبر والدیہ، او احدھما، فقرأ عندہ، او عندھما یس، غفرلہ۔(2)
ترجمہ: جس نے اپنے والدین کی قبر کی زیارت کی یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی اور ان کے پاس (سورہ) "یس" کی تلاوت کردی تو ان کی بخشش کردی جائے گی۔
اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
من مر بین المقابر، فقرأ قل ھو اللہ احد، احد عشر مرۃ، ثم وھب اجرھا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات۔ (3)
ترجمہ: جو شخص قبروں کے درمیان گزرا اورا س نے گیارہ مرتبہ "قل ھو اللہ احد" کی تلاوت کرکے اس کا اجر مردوں کو ایصال کردیا، تو(وہاں موجود) مردوں کی تعداد کے برابر اس شخص کو اجر دیا جائے گا۔
آپﷺ کا سورہ یٰس اور اخلاص کا حکم فرمانے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ صرف یہ پڑھنے کی اجازت ہے اس کے علاوہ نہیں، کیونکہ حدیث میں کوئی قید نہیں ہے۔ اور وہ تو ترغیب کےلیے اور خصوصاً سورۂ یٰس اور اخلاص کی اہمیت کےلیے فرمایا۔ اس کےعلاوہ تو آپﷺ کی اس ترغیب سے تلاوت قرآن عمومیت کے ساتھ جائز ہے۔ اور نہ صرف تلاوت بلکہ تسبیح وتہلیل اور استغفار ودعا کو بھی شامل ہے۔ جس پر تائید صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے دوقبروں میں عذاب ہوتے دیکھا تو آپﷺ نے کھجور کی تر ٹہنی منگائی اسے توڑ کر دوٹکڑے کیے اور دونوں قبروں پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا۔اور جب آپﷺ سے وجہ پوچھی گئی تو آپﷺ نے فرمایا:
لعلہ ان یخفف عنھما ما لم تیبسا۔ (4)
ترجمہ: جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی اس وقت تک ان پر عذاب ہلکا کردیا جائے گا۔
رسول اللہﷺ نے ترٹہنی کو عذاب کی تخفیف کا سبب بنایا، اس کی شرح کرتے ہوئے علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں:
لکونھما یسبحان مادامتا رطبتین۔ (5)
ترجمہ: یہ اس لیے کہ جب تک یہ شاخیں تررہیں گی اللہ کی تسبیح کرتی رہیں گی(اور اسی تسبیح کے سبب ان سے عذاب ہلکا کردیا جائے گا)۔
پھر آگے فرماتے ہیں:
واستحب العلماء قرأۃ القرآن عند القبر لھذا الحدیث۔ (6)
ترجمہ: اور علماء نے اس حدیث کی وجہ سے قبر کے پاس قرآن کی تلاوت کرنے کے مستحب قراردیا ہے۔
یہ حدیث مبارکہ بغیرتاویل وتشریح کے یہی ہدایت کررہی ہے کہ قبروں پر تلاوت قرآن نہ صرف جائز ہے بلکہ مسنون اور مستحب ہے۔

حوالہ

1 ۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
2۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
3۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
4۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
5۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216
6۔ عینی، عمدۃ القاری شرح الصحیح للبخاری، کتاب الوضوء، باب ان لا یستتر من البول، شرح رقم البخاری:216

اصل سوال

کیا قبر پر قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا مستحسن ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا حاملہ عورت کا میت والے گھر میں جانا جائز ہے؟ کیا میت کو غسل دینے والے شخص پر خود غسل کرنا واجب ہے؟ کیا خاوند کے لیے اپنی زوجہ کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟ کیا نمازِ جنازہ کے لیے اعلان کرنا جائز ہے؟ کیا ورثاءِ میت سے تعزیت کرنا جائز اور مسنون ہے؟