واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا سبب کے بار بار پیدا ہونے سے اس کا حکم بھی بار بار لازم ہوگا؟ ان تکرار السبب یدل علی تکرار المسبب۔

فقہ کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: فقہ مشاہدات: 1

جواب

ان تکرار السبب یدل علی تکرار المسبب۔ (1)
ترجمہ: سبب کا تکرار مسبب کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔
جو احکام کی بنیاد کسی سبب پر ہوتی ہے وہ اس سبب کے ساتھ ہی خاص ہوتے ہیں کہ جب تک سبب باقی رہے گا وہ حکم بھی باقی رہے گا اور جب وہ سبب ساقط ہوجائے گا تو وہ حکم بھی ساقط ہوجائے گا۔

حوالہ

1 ۔ ملاجیون، نورالانوار، فصل الامر لا یقتضی التکرار، ص: 86

اصل سوال

کیا سبب کے بار بار پیدا ہونے سے اس کا حکم بھی بار بار لازم ہوگا؟ ان تکرار السبب یدل علی تکرار المسبب۔

مزید فتاویٰ جات

کیا تابع چیز کا حکم بھی اصل چیز کے حکم کے مطابق ہوگا؟ التابع تابع۔ کیا اعمال کے احکام کا اعتبار نیت اور مقصد کے مطابق کیا جائے گا؟ الامور بمقاصدھا۔ کیا نیت کے بغیر کسی عمل پر ثواب حاصل ہوگا؟ لاثواب الا بالنیۃ۔ کیا شرعی مسائل میں عادت اور عرف کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ العادۃ محکمۃ۔ کیا غالب رائے (قوی گمان) کو یقین کے قائم مقام سمجھا جائے گا؟ غالب الرایٔ بمنزلۃ الیقین۔