فتویٰ
کیا ٹیسٹ ٹیوب کے عمل (IVF) کے بعد عورت پر غسل فرض ہو جاتا ہے؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا ٹیسٹ ٹیوب کے عمل (IVF) کے بعد عورت پر غسل فرض ہو جاتا ہے؟
جواب
ٹیسٹ ٹیوب ایک ایسا عمل ہے جس میں مرد وطی نہیں کرتا بلکہ مرد کا مادہ منویہ لے کر ٹیوب کے ذریعہ سے عورت کے رحم میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس طرح سے مرد و عورت کے مادہ کو مخلوط کردیا جاتا ہے۔ ایسا عمل کرنے سے جب مرد کا مادہ لیا جائے گا تو اس پر غسل فرض ہو جائے گا۔ کیونکہ اخراج منی بالشہوہ غسل کو فرض کرنے والا ہے۔ اور جب اسے ٹیوب کے عمل سے عورت کے رحم میں رکھا جاتا ہے تو عورت پر غسل فرض ہوجائے گا۔
امام ابن ہمام حنفی فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
لان وصف الجنابۃ متوقف علی خروج المنی ظاہراً او حکماً عند کمال سببہ مع خفاء خروجہ۔ (1)
ترجمہ: یہ کہ جنابت کا وصف منی کے خروج پر موقوف ہے وہ ظاہراً ہو یا حکماًکہ جس وقت سبب باکمال پایا جائے اور منی کا خروج مخفی ہو۔
کہ منی کے خروج سے جنابت ثابت ہوجائے گی اور ٹیسٹ ٹیوب کا عمل اسی وقت ہی مکمل ہوسکتا ہے جب عورت کو بھی انزال ہو جائے یعنی عورت کی منی مرد کی منی میں تحلیل ہو گی تو ہی حمل ٹھہر سکتا ہے۔ اگرچہ عورت کی طرف سے انزال ظاہر نہیں ہوتا بلکہ مخفی ہوتا ہےلیکن اس میں سبب کامل پایا جاتا ہے کہ جس سے منی کے اخراج کا یقین حاصل ہوتا ہے جس بناء پرعورت پر غسل فرض ہو جائے گا۔
اور بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اذا جومعت البکر فیما دون الفرج فحبلت فعلیھا الغسل لوجود الانزال لانہ لاحبل بدونہ۔ (2)
ترجمہ: جب باکرہ سے فرج کے علاوہ جماع کیا گیا اور وہ حاملہ ہو گئی تو اس پر غسل واجب ہوگا کیونکہ یہاں پر انزال پایا جارہا ہے اس لیے کہ حمل انزال کے بغیر نہیں ہے۔
یہاں پر جماع سے وطی عرفی مراد نہیں کیونکہ وطی فرج کے علاوہ واقع نہیں ہوتی۔ یہاں پر علامہ عینی رحمہ اللہ نے حمل سے انزال کا ثبوت پیش کیا اور پھر اس پر غسل کے واجب ہونے کا حکم لگا دیا۔ تو اس سے واضح ہوا کہ وطی کے علاوہ کسی عمل سے مرد کا مادہ عورت کے رحم تک پہنچایا گیا جس سے حمل قائم ہو جائےتو غسل واجب ہو جائے گا۔اور اس کی ایک صورت مذکورہ بالا ہے۔
حوالہ جات:
1۔ ابن ہمام، فتح القدیر، کتاب الطہارۃ ، فصل معانی الموجبۃ للغسل ، ج: 1،ص:69
2۔ عینی،البنایۃ ، کتاب الطہارۃ ، فصل معانی الموجبۃ للغسل ، ج: 1،ص:334
امام ابن ہمام حنفی فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
لان وصف الجنابۃ متوقف علی خروج المنی ظاہراً او حکماً عند کمال سببہ مع خفاء خروجہ۔ (1)
ترجمہ: یہ کہ جنابت کا وصف منی کے خروج پر موقوف ہے وہ ظاہراً ہو یا حکماًکہ جس وقت سبب باکمال پایا جائے اور منی کا خروج مخفی ہو۔
کہ منی کے خروج سے جنابت ثابت ہوجائے گی اور ٹیسٹ ٹیوب کا عمل اسی وقت ہی مکمل ہوسکتا ہے جب عورت کو بھی انزال ہو جائے یعنی عورت کی منی مرد کی منی میں تحلیل ہو گی تو ہی حمل ٹھہر سکتا ہے۔ اگرچہ عورت کی طرف سے انزال ظاہر نہیں ہوتا بلکہ مخفی ہوتا ہےلیکن اس میں سبب کامل پایا جاتا ہے کہ جس سے منی کے اخراج کا یقین حاصل ہوتا ہے جس بناء پرعورت پر غسل فرض ہو جائے گا۔
اور بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اذا جومعت البکر فیما دون الفرج فحبلت فعلیھا الغسل لوجود الانزال لانہ لاحبل بدونہ۔ (2)
ترجمہ: جب باکرہ سے فرج کے علاوہ جماع کیا گیا اور وہ حاملہ ہو گئی تو اس پر غسل واجب ہوگا کیونکہ یہاں پر انزال پایا جارہا ہے اس لیے کہ حمل انزال کے بغیر نہیں ہے۔
یہاں پر جماع سے وطی عرفی مراد نہیں کیونکہ وطی فرج کے علاوہ واقع نہیں ہوتی۔ یہاں پر علامہ عینی رحمہ اللہ نے حمل سے انزال کا ثبوت پیش کیا اور پھر اس پر غسل کے واجب ہونے کا حکم لگا دیا۔ تو اس سے واضح ہوا کہ وطی کے علاوہ کسی عمل سے مرد کا مادہ عورت کے رحم تک پہنچایا گیا جس سے حمل قائم ہو جائےتو غسل واجب ہو جائے گا۔اور اس کی ایک صورت مذکورہ بالا ہے۔
حوالہ جات:
1۔ ابن ہمام، فتح القدیر، کتاب الطہارۃ ، فصل معانی الموجبۃ للغسل ، ج: 1،ص:69
2۔ عینی،البنایۃ ، کتاب الطہارۃ ، فصل معانی الموجبۃ للغسل ، ج: 1،ص:334