فتویٰ
کیا ٹرین یا جہاز میں پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا جا سکتا ہے، اگر ذریعۂ تیمم میسر ہو؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
کیا ٹرین یا جہاز میں پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا جا سکتا ہے، اگر ذریعۂ تیمم میسر ہو؟
جواب
شرعی احکام جو کہ قطعی ہیں ان میں کسی طرح کا ردوبدل اور رائے دہی روا نہیں ہے۔ ایسے احکام میں جس حد تک شارع نے اجازت دی تو وہی اجازت ہے اس سے بڑھ کر نہیں۔ یعنی ان پر حالات و زمانہ اثر انداز نہیں ہوتے مثلاًنماز کی فرضیت اور نماز کےلیے وضو کی فرضیت اور وضو کے چار فرائض جو قرآن نے بیان کردیے۔ یہ قطعی احکام میں ہی کہ جن پر کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوسکتی ان میں رخصت یا اجازت صرف اتنی مقدار ہے جتنی کہ اللہ نے خود بیان فرمادی۔ ان پر قیاس کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں وضو کے چار فرائض بیان فرمائے اور پانی کی عدم موجودگی یا پانی کے استعمال کی استطاعت کے نہ ہونے پر تیمم کی اجازت مرہمت فرمادی۔
تیمم کوئی قیاسی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے آگے قیاس کرنا جائز اور درست ہے۔ جہاں پر من و عن شرعی حاجت پائی جائے گی وہاں پر اجازت ہو گی جہاں شرعی حاجت نہیں وہاں اجازت بھی نہیں۔ ٹرین یا جہاز میں پانی نہیں مگر نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے تو ایسی صورت میں کیا کرے؟ ٹرین کا اپنے سٹیشن اور جہاز کا ائر پورٹ کے علاوہ کسی بھی جگہ سٹاپ کرنا ناممکن ہے۔ ٹرین سٹاپ تو کرسکتی ہے مگر اس میں حرج بہت ہےایسے حالات میں حاجت شرعیہ تو ثابت ہوجائے گی اور تیمم کی اجازت دے دی جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر وضو نہیں کرسکتا تو تیمم کہاں کرے؟ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا۔(1)
ترجمہ: پاک مٹی سے تیمم کرو۔
تیمم کو مٹی سے خاص کردیا ہے فقہاء نے اس کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ جنس مٹی سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے تیمم ہوجائے گا۔
امام طحاوی فرماتے ہیں:
کل شئ تیمم بہ من تراب او طین او جص او نورۃ او زرنیخ او مما یکون من الارض سوی ذلک فانہ یجزئہ فی قول ابی حنیفۃ ومحمد بن الحسن۔ (2)
ترجمہ: مٹی، گارا، گچ، چونا، ہڑتال یا جو بھی ان کے علاوہ زمین میں سے ہو اس سے تیمم کرنا امام ابوحنیفہ اور امام محمد علیہما الرحمہ کے نزدیک جائز ہے۔
اور صاحب ہدایہ بیان فرماتے ہیں:
ویجوز التیمم عند ابی حنیفۃ ومحمد بکل ما کان من جنس الارض کالتراب والرمل والحجر والجص والنورۃ والکحل والزرنیخ۔۔۔ ثم لایشترط ان یکون علیہ غبار عند ابی حنیفۃ۔(3)
ترجمہ: ہر وہ چیز جو جنس ارض سے ہے اس سے امام ابوحنیفہ اور امام محمد علیہما الرحمہ کے نزدیک تیمم جائز ہے۔ جیسے مٹی، ریت، پتھر، شیشہ، چونا، سرمہ اور ہڑتال وغیرہ۔۔۔ پھر(فرماتے ہیں کہ) امام ابوحنیفہ کے نزدیک ان پر غبار کا ہونا بھی شرط نہیں ہے۔
یعنی پتھر وغیرہ جو مٹی تو نہیں ہیں نہ اس پر مٹی ہوتی ہے صاف پتھر ہو اس پر غبار بھی نہ ہو تو تیمم جائز ہے۔ اسی کو نورالایضاح، الجوہرۃ اور دیگر حنفی کتب فقہ میں بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر ٹرین یا جہاز میں ایسی کوئی چیز میسر آئے تو اس سے تیمم کرے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ میں دیوار پر ہاتھ مارے پھر تیمم فرمایا۔
لہٰذا ہر وہ چیز جو اقسام ارض سے ہوگی اس سے تیمم جائز ہے۔
حوالہ جات:
1 ۔
2۔ الطحاوی، المختصر فی الفقہ الحنفی، کتاب الطھارۃ، باب التیمم، ص:20
3 ۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج: 1،ص:50
تیمم کوئی قیاسی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے آگے قیاس کرنا جائز اور درست ہے۔ جہاں پر من و عن شرعی حاجت پائی جائے گی وہاں پر اجازت ہو گی جہاں شرعی حاجت نہیں وہاں اجازت بھی نہیں۔ ٹرین یا جہاز میں پانی نہیں مگر نماز کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے تو ایسی صورت میں کیا کرے؟ ٹرین کا اپنے سٹیشن اور جہاز کا ائر پورٹ کے علاوہ کسی بھی جگہ سٹاپ کرنا ناممکن ہے۔ ٹرین سٹاپ تو کرسکتی ہے مگر اس میں حرج بہت ہےایسے حالات میں حاجت شرعیہ تو ثابت ہوجائے گی اور تیمم کی اجازت دے دی جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر وضو نہیں کرسکتا تو تیمم کہاں کرے؟ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا۔(1)
ترجمہ: پاک مٹی سے تیمم کرو۔
تیمم کو مٹی سے خاص کردیا ہے فقہاء نے اس کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ جنس مٹی سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے تیمم ہوجائے گا۔
امام طحاوی فرماتے ہیں:
کل شئ تیمم بہ من تراب او طین او جص او نورۃ او زرنیخ او مما یکون من الارض سوی ذلک فانہ یجزئہ فی قول ابی حنیفۃ ومحمد بن الحسن۔ (2)
ترجمہ: مٹی، گارا، گچ، چونا، ہڑتال یا جو بھی ان کے علاوہ زمین میں سے ہو اس سے تیمم کرنا امام ابوحنیفہ اور امام محمد علیہما الرحمہ کے نزدیک جائز ہے۔
اور صاحب ہدایہ بیان فرماتے ہیں:
ویجوز التیمم عند ابی حنیفۃ ومحمد بکل ما کان من جنس الارض کالتراب والرمل والحجر والجص والنورۃ والکحل والزرنیخ۔۔۔ ثم لایشترط ان یکون علیہ غبار عند ابی حنیفۃ۔(3)
ترجمہ: ہر وہ چیز جو جنس ارض سے ہے اس سے امام ابوحنیفہ اور امام محمد علیہما الرحمہ کے نزدیک تیمم جائز ہے۔ جیسے مٹی، ریت، پتھر، شیشہ، چونا، سرمہ اور ہڑتال وغیرہ۔۔۔ پھر(فرماتے ہیں کہ) امام ابوحنیفہ کے نزدیک ان پر غبار کا ہونا بھی شرط نہیں ہے۔
یعنی پتھر وغیرہ جو مٹی تو نہیں ہیں نہ اس پر مٹی ہوتی ہے صاف پتھر ہو اس پر غبار بھی نہ ہو تو تیمم جائز ہے۔ اسی کو نورالایضاح، الجوہرۃ اور دیگر حنفی کتب فقہ میں بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر ٹرین یا جہاز میں ایسی کوئی چیز میسر آئے تو اس سے تیمم کرے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ میں دیوار پر ہاتھ مارے پھر تیمم فرمایا۔
لہٰذا ہر وہ چیز جو اقسام ارض سے ہوگی اس سے تیمم جائز ہے۔
حوالہ جات:
1 ۔
2۔ الطحاوی، المختصر فی الفقہ الحنفی، کتاب الطھارۃ، باب التیمم، ص:20
3 ۔ المرغینانی، الھدایۃ، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج: 1،ص:50