واپس فتاویٰ

فتویٰ

وِگ اور مصنوعی بالوں پر مسح کرنے اور غسل کا کیا حکم ہے؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 33

جواب

مصنوعی بال دو طرز پر لگائے جاتے ہیں کہ ان کواتارا جا سکتا ہے یا نہیں، اگر اتارا جا سکتا ہو تو ان کو اتارنا لازم ہوگا کیونکہ وضو و غسل کا تعلق انسان کے قدرتی اعضاء پر طہارت حاصل کرنے سے ہے لہٰذا جب قدرتی بال نہ رہے تو بالوں کی جگہ سر کی جلد پر مسح کیا جائے گا اور غسل میں تو پہلے ہی جلد تک پانی پہنچانا لازم ہےاور جو چیز ان قدرتی اعضاء پر پانی پہنچانے میں مانع ہوگی اسے زائل کرنا ضروری ہے۔ اگر ان بالوں کو اتارنا ممکن نہ ہو تو وہ اصلی بالوں کے حکم میں آجائیں گے اورمسح ان بالوں کے اوپر ہی کر لے تو ہو جائے گا اور اسی طرح سے غسل کرتے وقت بھی ان کو اتارنا لازمی نہیں ہوگا۔ کیونکہ اب انہیں اتارنا ناممکن اور مشکل امر ہے اور فقہ کا قائدہ ہے:
المشقۃ تجلب التیسیر۔ (1)
ترجمہ: مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اس قاعدے کی اصل قرآن و حدیث میں سے سابقہ صفحات میں بیان کی جاچکی ہے۔لہٰذا جہاں پر لوگوں کےلئے مشقت آجائے گی وہاں ان کو سہولت دی جائے گی۔ اس بنیاد پر مصنوعی بال جن کو اتارنا ناممکن یا مشکل ہو یا جن کو بار بار اتارنے میں حرج لازم آتا ہو وہاں رخصت آجائے گی اور مسح ان مصنوعی بالوں پر جائز ہو جائے گا۔اور ان بالوں کے اوپر سے ہی غسل بھی جائز ہوجائے گا۔
حوالہ:
1 ۔ ابن نجیم، الاشباہ ، الفن الاول القواعد الکلیۃ، القاعدۃ الرابعۃ، ص : 84

اصل سوال

وِگ اور مصنوعی بالوں پر مسح کرنے اور غسل کا کیا حکم ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟