فتویٰ
وِگ اور مصنوعی بالوں پر مسح کرنے اور غسل کا کیا حکم ہے؟
وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی
سوال
وِگ اور مصنوعی بالوں پر مسح کرنے اور غسل کا کیا حکم ہے؟
جواب
مصنوعی بال دو طرز پر لگائے جاتے ہیں کہ ان کواتارا جا سکتا ہے یا نہیں، اگر اتارا جا سکتا ہو تو ان کو اتارنا لازم ہوگا کیونکہ وضو و غسل کا تعلق انسان کے قدرتی اعضاء پر طہارت حاصل کرنے سے ہے لہٰذا جب قدرتی بال نہ رہے تو بالوں کی جگہ سر کی جلد پر مسح کیا جائے گا اور غسل میں تو پہلے ہی جلد تک پانی پہنچانا لازم ہےاور جو چیز ان قدرتی اعضاء پر پانی پہنچانے میں مانع ہوگی اسے زائل کرنا ضروری ہے۔ اگر ان بالوں کو اتارنا ممکن نہ ہو تو وہ اصلی بالوں کے حکم میں آجائیں گے اورمسح ان بالوں کے اوپر ہی کر لے تو ہو جائے گا اور اسی طرح سے غسل کرتے وقت بھی ان کو اتارنا لازمی نہیں ہوگا۔ کیونکہ اب انہیں اتارنا ناممکن اور مشکل امر ہے اور فقہ کا قائدہ ہے:
المشقۃ تجلب التیسیر۔ (1)
ترجمہ: مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اس قاعدے کی اصل قرآن و حدیث میں سے سابقہ صفحات میں بیان کی جاچکی ہے۔لہٰذا جہاں پر لوگوں کےلئے مشقت آجائے گی وہاں ان کو سہولت دی جائے گی۔ اس بنیاد پر مصنوعی بال جن کو اتارنا ناممکن یا مشکل ہو یا جن کو بار بار اتارنے میں حرج لازم آتا ہو وہاں رخصت آجائے گی اور مسح ان مصنوعی بالوں پر جائز ہو جائے گا۔اور ان بالوں کے اوپر سے ہی غسل بھی جائز ہوجائے گا۔
حوالہ:
1 ۔ ابن نجیم، الاشباہ ، الفن الاول القواعد الکلیۃ، القاعدۃ الرابعۃ، ص : 84
المشقۃ تجلب التیسیر۔ (1)
ترجمہ: مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے۔
اس قاعدے کی اصل قرآن و حدیث میں سے سابقہ صفحات میں بیان کی جاچکی ہے۔لہٰذا جہاں پر لوگوں کےلئے مشقت آجائے گی وہاں ان کو سہولت دی جائے گی۔ اس بنیاد پر مصنوعی بال جن کو اتارنا ناممکن یا مشکل ہو یا جن کو بار بار اتارنے میں حرج لازم آتا ہو وہاں رخصت آجائے گی اور مسح ان مصنوعی بالوں پر جائز ہو جائے گا۔اور ان بالوں کے اوپر سے ہی غسل بھی جائز ہوجائے گا۔
حوالہ:
1 ۔ ابن نجیم، الاشباہ ، الفن الاول القواعد الکلیۃ، القاعدۃ الرابعۃ، ص : 84