واپس فتاویٰ

فتویٰ

کیا وضو میں پاؤں دھونا فرض ہے؟

وضو و غسل کے موضوع پر شرعی رہنمائی

تاریخ: 2026-07-24 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: وضو و غسل مشاہدات: 32

جواب

وضو کے فرائض اربعہ قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہیں اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
وَاِذَا قُمتُم اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغسِلُوا وُجُوھَکُم وَ اَیدِیَکُم اِلَی المَرَافِقِ وَامسَحُوا بِرُؤُسِکُم وَ اَرجُلَکُم اِلَی الکَعبَینِ۔
ترجمہ: اور جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو اپنے چہروں کو دھولو اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو اور اپنے سروں کا مسح کرلو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھولو۔
اس آیت میں وضو کے چار فرائض خود رب ذوالجلال بیان فرمادیے ہیں کہ جن میں کسی بناء پر کوئی تأویل وغیرہ مقبول نہیں۔ سوائے اس کے کہ رسول اللہﷺ نے پاؤں پر پہنے ہوئے موزوں پر مسح کرنے کی اجازت عطا فرمادی ہے اور وہ بھی اس وقت جب پاؤں دھوکر پہنے گئے ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
عن سعد ابن ابی وقاص عن النبیﷺ انہ مسح علی الخفین۔ (1)
ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
جن لوگوں نے یہ نظریہ اپنا رکھا ہے کہ موزوں پر مسح کی طرح بغیر
موزے ننگے پاؤں پر مسح کرنا بھی جائز ہے۔ یہ سراسر باطل اور غلط ہے جو کہ قرآن و حدیث کی صریح مخالفت ہے۔ کہ جس نظریہ باطل کی حمایت کسی دور میں کسی بھی فقیہ، محدث و مفسر نے نہیں کی۔ ایسا نظریہ رکھنے والے حکم قطعی کے مخالف ہیں۔ لہٰذا اگر موزے پہن رکھے ہیں تو ان پر مسح کرنا جائز ٹھہرے گا لیکن اگر پاؤں ننگے ہیں تو انہیں دھونا ہی لازمی ہے جس میں ذرہ برابر بھی تحریف و تاؤیل شریعت میں مردود ہے۔
حوالہ:
1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الوضوء ، باب المسح علی الخفین، رقم الحدیث:202

اصل سوال

کیا وضو میں پاؤں دھونا فرض ہے؟

مزید فتاویٰ جات

کیا انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ جسم سے خون خارج نہ ہو؟ کیا پیشاب کی نلکی سے پیشاب خارج ہونے کی صورت میں وضو لازم ہو جاتا ہے؟ کیا مصنوعی اعضاء، مثلاً ہاتھ یا پاؤں، کو وضو اور غسل میں دھونا لازم ہے؟ کیا مصنوعی دانتوں یا دیگر مصنوعی اعضاء کو اتارنے سے حدث لاحق ہوتا ہے؟ حَدَث فقہِ اسلامی... فوجی حضرات یا پولیس مین جو بوٹ پہن کر ڈیوٹی پر موجود ہوں کیا وہ مسح کر سکتے ہیں؟