آن لائن دارالافتاء

دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال

مستند شرعی رہنمائی، فتاویٰ اور سوالات کے جوابات ایک جگہ

183 دستیاب فتاویٰ
7621 کل مشاہدات
15 موضوعاتی زمرے
موضوعات کے اعتبار سے فتاویٰ متعلقہ کیٹیگری منتخب کریں

ہمارے بارے میں

مستند شرعی رہنمائی ایک جگہ

یہ ویب سائٹ دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال کے فتاویٰ، سوالات کے جوابات اور عوامی رہنمائی کو آسان انداز میں پیش کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دینی مسائل تک رسائی سادہ، بااعتماد اور منظم ہو۔

AI تلاش رہنمائی

AI تلاش کو کب استعمال کریں؟

  • جب سوال کے الفاظ یاد نہ ہوں مگر مفہوم معلوم ہو۔
  • جب ایک ہی مسئلے سے متعلق کئی فتاویٰ دیکھنے ہوں۔
  • جب عام تلاش کمزور نتائج دے رہی ہو۔
  • جب متعلقہ موضوعات اور قریب المعنی فتاویٰ جلد دیکھنے ہوں۔
AI تلاش استعمال کریں
دارالافتاء کا طریقہ کار سوال سے جواب تک
1

سوال جمع کریں

اپنا مسئلہ واضح انداز میں لکھ کر سوال فارم کے ذریعے ارسال کریں۔

2

شرعی جائزہ

دارالافتاء کی جانب سے سوال کا علمی اور شرعی اعتبار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔

3

جواب کی تیاری

مسئلے کے مطابق مختصر، واضح اور معتبر جواب مرتب کیا جاتا ہے۔

4

اشاعت یا رہنمائی

جواب ویب سائٹ پر شائع کیا جاتا ہے یا مناسب صورت میں آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات اہم رہنمائی ایک نظر میں

یہ ویب سائٹ کس مقصد کے لیے ہے؟

یہ دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال کے مستند فتاویٰ، دینی رہنمائی اور سوالات کے جوابات ایک جگہ فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

AI تلاش کیا کرتی ہے؟

AI تلاش آپ کے سوال کے مطابق زیادہ متعلقہ فتاویٰ تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ نیا فتویٰ نہیں بناتی بلکہ موجودہ مواد میں سے بہتر نتائج سامنے لاتی ہے۔

سوال بھیجنے کے بعد جواب کیسے ملے گا؟

آپ سوال فارم کے ذریعے اپنا مسئلہ بھیج سکتے ہیں۔ انتظامیہ اس کا جائزہ لے کر مناسب جواب شائع یا فراہم کرتی ہے۔

کیا موضوعات کے لحاظ سے فتاویٰ دیکھے جا سکتے ہیں؟

جی ہاں، آپ موضوعاتی زمروں، عام تلاش اور AI تلاش کے ذریعے متعلقہ فتاویٰ تک جلد پہنچ سکتے ہیں۔

تازہ فتاویٰ کل نتائج: 183

کیا قبلہ کے تعین کے لیے قبلہ نما (Qibla Compass) پر اعتماد کرنا جائز ہے؟

جب قبلہ سامنے نہ بلکہ مصلّی قبلہ سے غائب ہو تو تعیّن ِقبلہ میں سب سے اول عادتِ جاریہ کا اعتبار کیا جاتا ہے پھر دوسرے نمبر پر تحرّی کو معتبر جانا گیا ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں ج...

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 46

کیا ایسے علاقے میں، جہاں بعض نمازوں کا وقت ہی نہیں آتا، ان نمازوں کی فرضیت ساقط ہو جائے گی؟

اکثر علاقوں میں تو اوقات متوازن ہوتے ہیں کہ جن میں پانچوں نمازوں کے اوقات بالترتیب آتے ہیں بعض علاقوں میں اوقات متوازن نہیں ہوتے کہ کہیں سورج تھوڑی دیر غروب ہوتا کہ اس وقت میں ...

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 56

کیا ایسے علاقوں میں، جہاں تقریباً چھ ماہ دن یا رات رہتی ہو، ایک دن میں پانچوں نمازیں فرض ہوں گی؟

ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں جن ایام میں دن بڑا ہو اور رات چھوٹی ہواور اسی طرح سے جن دنوں رات بڑی ہو اور دن چھوٹا ہو تو دونوں صورتوں میں پانچ نمازوں کی ترتیب وہی ہے کہ...

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 63

اگر کسی نے گھڑی یا کیلنڈر کے مطابق نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ نماز کا وقت داخل نہیں ہوا تھا، تو کیا نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہے؟

نماز کو اوقات کے ساتھ مخصوص کرکے فرض کیا گیا ہے اس لیے نماز کی ادائیگی اوقات پر مبنی ہے۔ کہ جس نماز کا وقت پایا جائے گا اسے اداکرلیا جائے گا لیکن اگر کوئی نماز قبل از وقت یا بعد...

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 65

کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج گھڑی پر اعتبار کرنا جائز ہے؟

نماز کےلئے اس کے وقت کا پایا جانا ضروری ہے اور وقت کے پائے جانے کا یقین ہونا بھی ضروری ہے۔ حالاتِ حاضرہ میں لوگ اوقات معلوم کرنے کےلئے سائے یا سورج کو دیکھنے کی بجائے صرف گھڑی ک...

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 41

کیا اوقاتِ نماز معلوم کرنے کے لیے مروّج کیلنڈر پر اعتبار کرنا جائز ہے؟

سب سے اول بات تو یہ ہے کہ وقتِ نماز ہر نمازی کےلئے بذاتِ خود سایہ دیکھ کر معلوم کرنا فرض نہیں۔ ایک معتبر، معتمد اور مستند شخص کی خبر ہی کافی ہے جسے ہم مؤذن کہتے ہیں۔ کہ اذان کے...

تاریخ: 2026-07-29 مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال موضوع: نماز مشاہدات: 22