ہمارے بارے میں
مستند شرعی رہنمائی ایک جگہ
یہ ویب سائٹ دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال کے فتاویٰ، سوالات کے جوابات اور عوامی رہنمائی کو آسان انداز میں پیش کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دینی مسائل تک رسائی سادہ، بااعتماد اور منظم ہو۔
مستند شرعی رہنمائی، فتاویٰ اور سوالات کے جوابات ایک جگہ
ہمارے بارے میں
یہ ویب سائٹ دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال کے فتاویٰ، سوالات کے جوابات اور عوامی رہنمائی کو آسان انداز میں پیش کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دینی مسائل تک رسائی سادہ، بااعتماد اور منظم ہو۔
AI تلاش رہنمائی
اپنا مسئلہ واضح انداز میں لکھ کر سوال فارم کے ذریعے ارسال کریں۔
دارالافتاء کی جانب سے سوال کا علمی اور شرعی اعتبار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
مسئلے کے مطابق مختصر، واضح اور معتبر جواب مرتب کیا جاتا ہے۔
جواب ویب سائٹ پر شائع کیا جاتا ہے یا مناسب صورت میں آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔
یہ دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال کے مستند فتاویٰ، دینی رہنمائی اور سوالات کے جوابات ایک جگہ فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
AI تلاش آپ کے سوال کے مطابق زیادہ متعلقہ فتاویٰ تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ نیا فتویٰ نہیں بناتی بلکہ موجودہ مواد میں سے بہتر نتائج سامنے لاتی ہے۔
آپ سوال فارم کے ذریعے اپنا مسئلہ بھیج سکتے ہیں۔ انتظامیہ اس کا جائزہ لے کر مناسب جواب شائع یا فراہم کرتی ہے۔
جی ہاں، آپ موضوعاتی زمروں، عام تلاش اور AI تلاش کے ذریعے متعلقہ فتاویٰ تک جلد پہنچ سکتے ہیں۔
جب قبلہ سامنے نہ بلکہ مصلّی قبلہ سے غائب ہو تو تعیّن ِقبلہ میں سب سے اول عادتِ جاریہ کا اعتبار کیا جاتا ہے پھر دوسرے نمبر پر تحرّی کو معتبر جانا گیا ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں ج...
اکثر علاقوں میں تو اوقات متوازن ہوتے ہیں کہ جن میں پانچوں نمازوں کے اوقات بالترتیب آتے ہیں بعض علاقوں میں اوقات متوازن نہیں ہوتے کہ کہیں سورج تھوڑی دیر غروب ہوتا کہ اس وقت میں ...
ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں جن ایام میں دن بڑا ہو اور رات چھوٹی ہواور اسی طرح سے جن دنوں رات بڑی ہو اور دن چھوٹا ہو تو دونوں صورتوں میں پانچ نمازوں کی ترتیب وہی ہے کہ...
نماز کو اوقات کے ساتھ مخصوص کرکے فرض کیا گیا ہے اس لیے نماز کی ادائیگی اوقات پر مبنی ہے۔ کہ جس نماز کا وقت پایا جائے گا اسے اداکرلیا جائے گا لیکن اگر کوئی نماز قبل از وقت یا بعد...
نماز کےلئے اس کے وقت کا پایا جانا ضروری ہے اور وقت کے پائے جانے کا یقین ہونا بھی ضروری ہے۔ حالاتِ حاضرہ میں لوگ اوقات معلوم کرنے کےلئے سائے یا سورج کو دیکھنے کی بجائے صرف گھڑی ک...
سب سے اول بات تو یہ ہے کہ وقتِ نماز ہر نمازی کےلئے بذاتِ خود سایہ دیکھ کر معلوم کرنا فرض نہیں۔ ایک معتبر، معتمد اور مستند شخص کی خبر ہی کافی ہے جسے ہم مؤذن کہتے ہیں۔ کہ اذان کے...