ہمارے بارے میں
مستند شرعی رہنمائی ایک جگہ
یہ ویب سائٹ دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال کے فتاویٰ، سوالات کے جوابات اور عوامی رہنمائی کو آسان انداز میں پیش کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دینی مسائل تک رسائی سادہ، بااعتماد اور منظم ہو۔
مستند شرعی رہنمائی، فتاویٰ اور سوالات کے جوابات ایک جگہ
ہمارے بارے میں
یہ ویب سائٹ دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال کے فتاویٰ، سوالات کے جوابات اور عوامی رہنمائی کو آسان انداز میں پیش کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دینی مسائل تک رسائی سادہ، بااعتماد اور منظم ہو۔
AI تلاش رہنمائی
اپنا مسئلہ واضح انداز میں لکھ کر سوال فارم کے ذریعے ارسال کریں۔
دارالافتاء کی جانب سے سوال کا علمی اور شرعی اعتبار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
مسئلے کے مطابق مختصر، واضح اور معتبر جواب مرتب کیا جاتا ہے۔
جواب ویب سائٹ پر شائع کیا جاتا ہے یا مناسب صورت میں آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔
یہ دارالافتاء جامعہ فریدیہ ساہیوال کے مستند فتاویٰ، دینی رہنمائی اور سوالات کے جوابات ایک جگہ فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
AI تلاش آپ کے سوال کے مطابق زیادہ متعلقہ فتاویٰ تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ نیا فتویٰ نہیں بناتی بلکہ موجودہ مواد میں سے بہتر نتائج سامنے لاتی ہے۔
آپ سوال فارم کے ذریعے اپنا مسئلہ بھیج سکتے ہیں۔ انتظامیہ اس کا جائزہ لے کر مناسب جواب شائع یا فراہم کرتی ہے۔
جی ہاں، آپ موضوعاتی زمروں، عام تلاش اور AI تلاش کے ذریعے متعلقہ فتاویٰ تک جلد پہنچ سکتے ہیں۔
کنٹیکٹ لینسز عینک کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جانے والے پلاسٹک کا آلہ ہیں جو کہ آنکھ کے اندر کالی ٹکیہ کے اوپر لگا دیئے جاتے ہیں۔ ان لینسز کو کیونکہ آنکھ کے اندر لگایا جا...
پلاسٹر پٹی کی ہی ایک نئی شکل ہے اس لیے پلاسٹر پٹی کے حکم میں ہے کہ جیسے پٹی پر وضو و غسل میں مسح کرنا جائز ہے اسی طرح سے پلاسٹر پر بھی وضو و غسل میں مسح کرنا جائز ہے۔ کیونکہ درا...
تمام مصنوعی اعضاء (دانتوں، بالوں اور دیگر) کی دو صورتیں ہیں کہ وہ اعضاء مستقل ہوں گےیا عارضی پہلی صورت میں تو اصلی اعضاء کے حکم میں ہو جائیں گے اس صورت میں ان اعضاء کو کسی وقت ا...
غسل کے لیے کلی کرنا لازمی ہے اور کلی کرتے وقت دانت ہوں تو ان تک پانی پہنچانا اور اگر دانت نہ ہوں تو مسوڑھوں تک پانی پہنچانا لازمی ہے۔ اس لیے مصنوعی دانتوں کی صورت میں بھی غسل کا...
جو شخص قدرتی اعضاء سے معذور ہوجائے اور پھر مصنوعی اعضاء کا استعمال کرتا ہو اس کےلئے ان اعضاء کو دھونا لازم نہیں ہوگا۔کیونکہ قدرتی اعضاء کے ضائع ہوجانے پر وہ اس کا مکلف ہی نہیں ر...
مصنوعی بال دو طرز پر لگائے جاتے ہیں کہ ان کواتارا جا سکتا ہے یا نہیں، اگر اتارا جا سکتا ہو تو ان کو اتارنا لازم ہوگا کیونکہ وضو و غسل کا تعلق انسان کے قدرتی اعضاء پر طہارت حاصل ...